عید قریب آنے کے باعث اب لگ بھگ ایک لاکھ دس ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں،وطن واپسی کے خواہش مند افراد صرف حکومتی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کریں، ، وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی امور، معید یوسف

اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی امور معید یوسف نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اس وقت ترجیحی بنیادوں پر بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان نے پالیسی جاری کی جس پر عمل درآمد گزشتہ ماہ سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ نجی چینل سے گفتگو کے دوران …

اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی امور معید یوسف نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اس وقت ترجیحی بنیادوں پر بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان نے پالیسی جاری کی جس پر عمل درآمد گزشتہ ماہ سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ نجی چینل سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کے طور پر پہلے 2000 غیر ملکی پاکستانیوں کو ملک لایا گیا اور پھر آہستہ آہستہ اس تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اسے چھ سے سات ہزار تک کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے وزیر اعظم نے واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں۔ خاص طور سے مزدور طبقہ، ان ہی پر کافی حد تک ملک کی معیشت کا انحصار ہے۔ انہیں غیر ملکوں سے محفوظ طریقے سے واپس لانا ہر پاکستانی کا حق ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا سسٹم مزید بہتر کرنے کے لئے رواں ہفتے پالیسی میں کچھ تبدیلیاں لائی گئی ہیں پہلے غیر ملکی پاکستانیوں کی وطن آمد پر پہلے اڑتالیس گھنٹے کے انتظار کے بعد ٹیسٹ کیا جاتا تھا وہ بھی ایک سائنسی منطق کے تحت۔ اب اس کی ضرورت نہیں رہی اب ہم ٹیسٹ جلدی کر کے لوگوں کو جلدی گھر بھیج سکیں گے۔ اس طرح ہم ہر ہفتے گیارہ سے بارہ ہزار پاکستانیوں کو واپس لا سکیں گے۔ معید کا کہنا تھا کہ وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا اور عید قریب آنے کے باعث اب لگ بھگ ایک لاکھ دس ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر نے اس امر پر زور دیا کہ وطن واپسی کے متمنی پاکستانیوں میں سے 90 فیصد خلیجی ممالک میں بطور مزدور کام کر رہے ہیں اور ان کی واپسی کے بارے میں حکومت نے انتہائی شفاف پالیسی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سارے معاملات میں الجھنیں بھی پائی جاتی ہیں اور بہت سا اتار چڑھاؤ بھی ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ہوائی اڈے اور ایئر لائنز بند ہیں، ہمیں اجازت لینا پڑتی ہے، آخری منٹوں میں کنسیلیشن ہو جاتی ہے، ہم ہفتہ وار شیڈول لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ اْس سے آگے کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمیں دنیا کا نہیں پتا، کہاں جہاز لیجانے کی اجازت ملے گی اور کہاں پر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس طرح انڈسٹریز کے مالکان کے ساتھ مشاورت کر کے ایس او پیز طے کی تھیں بالکل اْسی طرح علمائے کرام، تمام فقہ کے ترجمانوں اور مذہبی شخصیات کے ساتھ حکومت نے مشاورت کر کے ایس او پیز طے کیں ہیں۔ انہی کے تحت مساجد کھلیں گی اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا تو حکومت مساجد کو بند کروانے کا اختیار استعمال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی مساجد میں تنبیہ بھی کی گئی، لیکن یہ سب کچھ ڈنڈے کے زور پر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معاشرتی توازن برقرار رکھنا ہے عوام کے احساسات کا احترام کرنا ہے، رمضان کے خصوی ایام اورعید کے اجتماعات کے لیے ڈسٹرکٹ اور صوبائی سطح پر علما سے مشاورت کی جائے گی، وباء کا پھیلاؤ روکنا اولین ترجیح ہے۔ معید یوسف نے کہا کہ اگر اس کی حفاظتی تدابیر کے ساتھ کوئی اجتماع ہو سکتا ہے تو اْس کے امکانات پر غور کیا جائے گا، اگر یہ ممکن نہیں تو باہمی تعاون کے ساتھ ایک لائحہ عمل طے ہوگا۔ ہمیں اپنے لوگوں کی حساسیت کا مکمل خیال رکھتے ہوئے پالیسی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو کورونا وائرس سے ہونے والے متاثرین کی لاشوں کو وطن واپس لانے کی اجازت دے دی ہے لیکن وزارت صحت اور شہری ہوا بازی اتھارٹی نے انفیکشن کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل پر زور دیا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر معید یوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وطن واپسی کے خواہش مند افراد صرف حکومتی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کریں اور دیگر ذرائع پر بھروسہ نہ کریں۔ اس ویب سائٹ کا ایڈریس covid.gov.pk ہے۔ خصوصی ویب سائٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا تمام ٹریولرز اس ویب سائیٹ پر جائیں ان پر گائیڈ لائنز ہیں، ایس او پیز ہیں، شیڈول ہے سوائے اس شیڈول کے کسی اور پر اعتبار نہ کریں۔ جو فلائٹ ہم منظورکر رہے ہیں وہ موجود ہیں اس کے علاوہ کہیں اور موجود نہیں۔