غزہ سمیت فلسطینیوں کی سرزمین سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، اسرائیل کے جنگی جرائم اور منظم نسل کشی کا عالمی قوانین کے مطابق مواخذہ ہونا چاہئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر پیغام

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فلسطینیوں کےبنیادی حق، حق خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ سمیت فلسطینیوں کی سرزمین سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کو یقینی بنانا ناگزیر ہے،فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم اور منظم نسل کشی کا عالمی قوانین کے مطابق مواخذہ ہونا چاہئے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے …

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فلسطینیوں کےبنیادی حق، حق خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ سمیت فلسطینیوں کی سرزمین سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کو یقینی بنانا ناگزیر ہے،فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم اور منظم نسل کشی کا عالمی قوانین کے مطابق مواخذہ ہونا چاہئے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے عالمی دن پر حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام غیر متزلزل عزم و یکجہتی کے ساتھ اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں،دہائیوں سے فلسطینی عوام نے المناک سانحات کا سامنا کیا ہے جن میں حق خود ارادیت کی نفی، اپنی سرزمین سے محرومی اور امن و سکون کی تباہی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں 70 ہزار بچوں، خواتین اور مردوں کو شہید کر دیا گیا ہے،غزہ نےسفاکانہ ظلم و ستم کا سامنا کیا ہے، آبادیوں اور خاندانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے ، اس کے علاوہ گھروں، ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ضروری شہری ڈھانچے کو ملبے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، ایسے افسوسناک اور ناقابل بیان سانحات کے باوجود فلسطینی عوام نے مثالی، غیر متزلزل اور بھرپور عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی شناخت اور مقصد کے لئے حصول انصاف کی امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جرأت و بہادری اور ان کی انصاف پسند مقاصد کے ساتھ وابستگی انسانی عزم کی عظمت کی عکاس ہے ، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم اور منظم نسل کشی کا عالمی قوانین کے مطابق مواخذہ ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دو ریاستی حل کے لیے بلائی گئی حالیہ اعلیٰ سطحی کانفرنس اور غزہ امن منصوبہ کی صورت میں اس مسئلے کے حل کا ایک موقع ملا ہےتاہم جنگ بندی جاری رہنا اور اسرائیل کی طرف سے ہر قسم کے تشدد کی روک تھام اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا نہایت ضروری و ناگزیر ہے، اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے لیے امداد کے لئے سرگرم ادارے کو بغیر کسی سیاسی مداخلت اور رکاوٹ کے مکمل طور پر فعال بنانا ضروری ہے اور سب سے اہم یہ کہ اسرائیل کے فلسطینیوں کی سرزمین بشمول غزہ سے مکمل انخلاء کو یقینی بنانا ناگزیر ہے کیونکہ فلسطینی عوام مکمل امن اور خوشحالی کے حقدار ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو غزہ میں ظلم و ستم کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی کنارہ کی سنگین صورتحال پر بھی توجہ دینی چاہئے جہاں پر غیر قانونی بستیوں کی توسیع عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور امن و سلامتی کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے لیے منصفانہ، دیر پا اور جامع حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو،پاکستان اپنے بھرپور تعاون اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے،

پاکستان،فلسطینیوں کےبنیادی حق، حق خود ارادیت اور ایک آزاد، قابل عمل، متحد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے جو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان آج کے دن بالخصوص اور ہمیشہ کے لئے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہےاور ہم منصفانہ، جائز ، آزادی، عزت و قار اور امن و خوشحالی کے لیے ان کی حق پر مبنی جدو جہد کے ساتھ ہیں۔

مزید خبریں