غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ، عام شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں، پاکستانی مندوب کا سلامتی کونسل میں خطاب

اقوام متحدہ ۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ وہ امریکی قیادت میں قائم ہونے والے بورڈ آف پیس میں شامل ہو گیا ہے، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام پر مبنی دیرپا امن کے قیام کے لیے کام کرے گا۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد …

اقوام متحدہ ۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ وہ امریکی قیادت میں قائم ہونے والے بورڈ آف پیس میں شامل ہو گیا ہے، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام پر مبنی دیرپا امن کے قیام کے لیے کام کرے گا۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نےمشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بشمول مسئلہ فلسطین، پر سلامتی کونسل کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، بالخصوص سلامتی کونسل، کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی سفارتی کوششوں کو فلسطینی عوام کی بہتری کے لیے زمینی حقائق میں ٹھوس تبدیلی میں تبدیل کرے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل نہ ہونا مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، جبکہ دہائیوں پر محیط اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں فلسطینی عوام کو بے دخلی، جبر اور حقِ خود ارادیت سے محرومی کا سامنا ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی کے قیام، بورڈ آف پیس اور ایگزیکٹو کمیٹیوں کی تشکیل جیسے اقدامات کو جنگ بندی کے استحکام، مستقل طور پر لڑائی کے خاتمے، عبوری انتظامات، بحالی و تعمیر نو، وسیع پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بنیاد بننا چاہیے-

انہوں نے غزہ کی نازک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور عام شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی امدادی اداروں، بشمول ان کے اندراج کی منسوخی اور امدادی سرگرمیوں پر پابندیوں، سے امداد کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔پاکستانی مندوب نے اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی تنصیبات اور فلسطینیوں کی امداد کے لیے کام کرنے والے ادارےیواین آر ڈبلیو اے پر حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے شیخ جراح علاقے میں اقوامِ متحدہ کے کمپاؤنڈ کی حالیہ مسماری بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اب تک کی محدود پیش رفت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جبکہ یو این آڑ ڈبلیو او کی سرگرمیوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ پاکستان، عرب اور اسلامی ممالک کے گروپ آف ایٹ کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ آف پیس میں شامل ہوا ہے اور اس کے مینڈیٹ کی حمایت کرتا ہے، جیسا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں توثیق کی گئی ہے۔ انہوں نے گروپ کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امن کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس، قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافے، غزہ کی تعمیر نو اور ایک قابلِ اعتماد، وقت کے پابند سیاسی عمل کے ذریعے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے عملی نفاذ کی راہ ہموار کرے گا، جس کے نتیجے میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست قائم ہو سکے گی، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے فلسطینی قیادت میں حکمرانی، ادارہ جاتی مضبوطی اور فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ناگزیر ہے، اور یہی ہدف عالمی برادری کی اجتماعی خواہش ہے۔

مزید خبریں