غزہ میں سردی کی شدید لہر،3فلسطینی بچے جاں بحق

غزہ۔27دسمبر (اے پی پی):غزہ میں شدید سردی کے باعث 3 فلسطینی بچے جاں بحق ہو گئے۔ العربیہ اردو کے مطابق خان یونس میں ناصر ہسپتال کے ڈاکٹر احمد الفرا نے گزشتہ روز بتایا کہ سردی کی شدید لہر کی وجہ سے ایک ہفتے کے دوران تین بچے ٹھٹھر کر جاں بحق ہو ئے ۔ انہوں نے کہا کہ تین ہفتوں کی شیر خوار بچی سیلا الفصیح کو ایمرجنسی وارڈ میں …

غزہ۔27دسمبر (اے پی پی):غزہ میں شدید سردی کے باعث 3 فلسطینی بچے جاں بحق ہو گئے۔ العربیہ اردو کے مطابق خان یونس میں ناصر ہسپتال کے ڈاکٹر احمد الفرا نے گزشتہ روز بتایا کہ سردی کی شدید لہر کی وجہ سے ایک ہفتے کے دوران تین بچے ٹھٹھر کر جاں بحق ہو ئے ۔ انہوں نے کہا کہ تین ہفتوں کی شیر خوار بچی سیلا الفصیح کو ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تو اس کے جسم کا درجہ حرارت سخت سردی کی وجہ سے انتہائی نیچے جا چکا تھا لیکن ہسپتال میں اسے ضروری سہولت کی فراہمی ممکن نہ ہونے کے باعث یہ بچی جان کی بازی ہار گئی جو المواصی پناہ گزین کیمپ کے ایک خیمے میں رہنے والی بے گھر فلسطینی ماں کی بچی تھی۔

بچی کے والد محمود الفصیح نے اے ایف کو بتایا کہ بچی بھوک کی وجہ سے رات کے وقت دو تین مرتبہ جاگی ، صبح دیکھا تو اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا جس پر ہم اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے جنہوں نے بتایا کہ بچی شدید سردی کا شکار ہوئی ہے، اسی طرح کے کئی اور بچے پہلے بھی یہاں لائے جا چکے ہیں۔ناصر ہسپتال کے ڈاکٹر احمد الفرا نے بتایا کہ اسی نوعیت کے دو واقعات کو ان کی ٹیم نے منگل کو ہینڈل کیا جب تین دنوں کا ایک نومولود فلسطینی بچہ بھی جاں بحق ہو گیا، اسی طرح ایک ماہ سے کم عمر کا شیر خوار بھی شدید سردی کے باعث جاں بحق ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ خیموں میں اس سردی میں کم کپڑوں اور ایندھن کے بغیر رہنا ممکن نہیں ،اس کا بچے آسان ہدف بن رہے ہیں کیونکہ جس حالت کے خیمے زیادہ تر بے گھروں کو فراہم ہیں وہ سردی روکنے والے ہرگز نہیں ، اس لیے سب سے زیادہ خطرے میں نومولود ، شیر خوار اور کم سن بچے ہیں جنہیں دودھ اور خوارک بھی ان کی ضرورت کے مطابق دستیاب ہونا بہت مشکل ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں ساڑھے چودہ ماہ سے جاری اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہونے والےلاکھوں فلسطینی عوام اب یخ سردی کی زد میں ہیں لیکن یہ صرف بوسیدہ خیموں کے اندر تک محدود نہیں غزہ کے بچے کھچے ہسپتال بھی فلسطینی بچوں کے ٹھٹھر ٹھٹھر کر مرنے کے مراکز میں بدل رہے ہیں جس کی وجہ یہ کہ غزہ کے ان تباہ حال ہسپتالوں میں نہ ادویات کی باآسانی دستیابی ہے، نہ طبی آلات اور نہ ہی ایندھن کی جس سے ہسپتالوں کے جنریٹر چل سکیں اور ہیٹرکام آ سکیں، اس صورت حال میں سب سے زیادہ خطرے میں فلسطینی بچے ہیں۔

مزید خبریں