غیر مجاز ایرانی پروازوں کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس،پاکستان کا کشیدگی میں کمی پر زور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں حالیہ دنوں میں ایران کی یمن آنے اور جانے والی مبینہ غیر مجاز پروازوں کی اطلاعات کے معاملے پر غور کیا گیاجبکہ پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور باہمی مفاہمت کے فروغ کے لیے تمام فریقین پر کشیدگی کم کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

اقوام متحدہ ۔14جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں حالیہ دنوں میں ایران کی یمن آنے اور جانے والی مبینہ غیر مجاز پروازوں کی اطلاعات کے معاملے پر غور کیا گیاجبکہ پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور باہمی مفاہمت کے فروغ کے لیے تمام فریقین پر کشیدگی کم کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی نہ صرف امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی بلکہ یمنی عوام کی مشکلات اور انسانی بحران میں بھی اضافہ کرے گی۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس یمن کی بین حکومت کی درخواست پر بلایا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ حوثی باغیوں نے ایران کی حمایت سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ بحرین، فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے بھی اجلاس بلانے کی حمایت کی۔سفیر عثمان جدون نے سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال، جہاں متعدد بحران ایک ساتھ موجود ہیں، اس امر کی متقاضی ہے کہ تمام متعلقہ فریق اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے اصولوں پر عمل کریں۔انہوں نے زور دیا کہ یمن میں دیرپا اور جامع امن صرف ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے جو یمنی عوام کی قیادت اور ملکیت کا حامل ہو اور اقوام متحدہ کی سہولت کاری میں آگے بڑھایا جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے کہا کہ حالیہ پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یمن کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور یکطرفہ اقدامات ملک میں تقسیم اور عدم استحکام کو مزید گہرا کریں گے۔