غیر مصدقہ الزامات بھارت کے بیانیے کی قلعی کھولتے ہیں ، مسعود خان
غیر مصدقہ الزامات بھارت کے بیانیے کی قلعی کھولتے ہیں ، مسعود خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ پاکستانی فوجی محمد آصف کی زندہ موجودگی نے،جنہیں بھارتی حکام اور میڈیا نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مارا جانے والا عسکریت پسند قرار دیا تھا،اس بھارتی دعوے کی صداقت پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ہفتہ کو یہاں جاری ایک بیان میں مسعود خان نے کہا کہ اس واقعے سے سکیورٹی سے متعلق دعووں کو مناسب تصدیق کے بغیر جاری کرنے اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے خطرات واضح ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حساس واقعات سے متعلق معلومات کی تشہیر سے قبل ان کی آزادانہ جانچ پڑتال ہونی چاہیے، خاص طور پر جب ایسے دعوے بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات کی سچائی کی تصدیق کریں، بشمول وہ معلومات جو حکومتی یا عسکری حکام سے منسوب ہوں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دعووں کی متعدد ذرائع سے تصدیق کی جانی چاہیے اور جہاں حقائق غیر یقینی ہوں، وہاں شکوک و شبہات کی موجودگی کا واضح طور پر اعتراف کیا جانا چاہیے۔سردار مسعود خان نے اس واقعے کو پاکستان کے خلاف ‘معلوماتی جنگ’ اور بیانیہ سازی کے وسیع تر سلسلے کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے پلوامہ، اوڑی اور پہلگام جیسے گزشتہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر عائد الزامات کی تائید قابلِ تصدیق شواہد سے ہونی چاہیے، نہ کہ حقائق کے تعین سے قبل ہی انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔
انہوں نے پاکستان کے خلاف مربوط معلوماتی مہمات سے متعلق رپورٹس اور تحقیق کا بھی حوالہ دیا، جن میں 2020 میں ‘ای یو ڈس انفولب’کی جانب سے ویب سائٹس اور میڈیا آؤٹ لیٹس کے نیٹ ورکس کے بارے میں سامنے لائے گئے انکشافات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایسی سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور جموں و کشمیر تنازعہ پر اس کے مؤقف کو کمزور کرنا تھا۔سردار مسعود خان نے کہا کہ اس تازہ ترین واقعے کا وقت انتہائی اہم ہے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی سفارتی مصروفیات کے تناظر میں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سفارت کاری میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور غیر مصدقہ بیانیوں کے ذریعے اس کی بین الاقوامی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے وسیع علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو دونوں ممالک کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ شواہد، مسلمہ تفتیشی طریقہ کار اور ذمہ دارانہ ابلاغ پر انحصار کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی یا سرحد پار ملوث ہونے کے الزامات قابلِ اعتماد شواہد کے ساتھ پیش کیے جائیں اور مناسب طریقہ کار کے ذریعے ان کا جائزہ لیا جائے۔








