فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لگا کرفضائی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے،ترجمان

لاہور۔15ستمبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ فصلوں کی باقیات مثلاً دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی(سموگ)پیدا ہوتی ہے ، سموگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فصلوں کی باقیات مثلاً دھان کے مڈھوں کو آگ نہ لگائی جائے بلکہ ان کو زمین میں ملا کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جمعہ کو جاری بیان میں ترجمان محکمہ …

لاہور۔15ستمبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ فصلوں کی باقیات مثلاً دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی(سموگ)پیدا ہوتی ہے ، سموگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فصلوں کی باقیات مثلاً دھان کے مڈھوں کو آگ نہ لگائی جائے بلکہ ان کو زمین میں ملا کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

جمعہ کو جاری بیان میں ترجمان محکمہ زراعت نے بتایا کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے واقعات کو روکنے کیلئے محکمہ زراعت پنجاب ہر ممکن اقدام کرے گا۔سموگ کی وجہ سے انسانی زندگی فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امسال فیلڈ اسسٹنٹس روزانہ کی بنیاد پر دھان کی فصل کی باقیات کو جلائے جانے والے واقعات کو مانیٹر کررہے ہیں اور اس کی رپورٹ ڈائریکٹر(ایم اینڈ ای) اوراپنے متعلقہ ڈویژنل ڈائریکٹر کو رہے ہیں۔دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں متعلقہ کاشتکار کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی لہذٰا کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔

دھان کے مڈھوں سے اٹھنے والا دھواں ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو کی مدد سے باقیات کو زمین میں ملا دیںیا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں،اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوںنے کاشتکاروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ زراعت پنجاب سے اس سلسلے میں مکمل تعاون کریں کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگیوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں لہذٰا ملکی مفادِ عامہ میں دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کیا جائے۔