فضائی روابط، بینکنگ چینلز باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے اہم ہیں، تاجک سفیر کا لاہور چیمبر میں خطاب
فضائی روابط، بینکنگ چینلز باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے اہم ہیں، تاجک سفیر کا لاہور چیمبر میں خطاب

مزید خبریں
لاہور۔9فروری (اے پی پی): پاکستان میں تاجکستان کے سفیر عصمت اللہ ناصرالدین نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی روابط اور بینکنگ چینلز کا قیام باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دور ہ پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔تاجک سفیر نے کہا کہ اسلام آباد سے دوشنبہ تک براہ راست پرواز جلد شروع کی جارہی ہے۔ براہ راست پروازوں سے سفر کے وقت کی بچت ہوگی اور باہمی تجارت بڑھے گی۔ سفیر نے کہا کہ کچھ سیاسی، نقل و حمل اور مواصلات سے متعلق چیلنجز ہیں، لیکن مشترکہ اقدامات کے ذریعے ان سے نمٹا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو ویزے کے لیے سہولتیں دی جارہی ہیں اور ایک بھی درخواست مسترد نہیں کی جارہی۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے صدر کو تاجکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے وفد بھجوانے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، پھل اور سبزیاں، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے وسیع مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان پاکستانی بندرگاہوں سے استفادہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ ان کے ذریعے تجارتی سامان کی نقل و حمل پر دیگر ممالک کے مقابلے میں لاگت میں تین گنا کمی آئے گی۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور سے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دستخط شدہ 88 معاہدوں پر کام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بینکوں اور تاجکستان کے درمیان مناسب بینکنگ چینل کے قیام کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو براہ راست تجارتی روابط قائم کرنے چاہئیں ۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تمام مسائل پر تاجکستان کی حمایت کی ہے۔لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستخط شدہ 88 معاہدوں میں سے 80 فیصد دستاویزات معیشت سے متعلق ہیں لیکن ابھی تک ان پر کوئی کام نہیں ہوا۔
انہوں نے تاجک سفیر کو بتایا کہ لاہور چیمبر کی تمام دستاویزات کیو آر کوڈڈ ہیں۔ کاشف انور نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مضبوط ثقافتی، مذہبی اور تاریخی روابط ہیں۔ دونوں برادر ممالک اسلامی تعاون تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے متعدد بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے رکن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبرتاجکستان کو وسطی ایشیا کی ایک اہم معیشت کے طور پر بہت اہمیت دیتا ہے۔کاشف انور نے کہا کہ تاجکستان کے صدر کے حالیہ دورہ نے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک نے فلیگ شپ پاور پروجیکٹ CASA-1000 (وسطی ایشیا-جنوبی ایشیا الیکٹرسٹی ٹرانسمیشن اینڈ ٹریڈ پروجیکٹ) کو جلد حتمی شکل دینے کی توثیق کی ہے، جو تاجکستان کی جانب سے اضافی بجلی پاکستان کو فروخت کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر ظفر محمود چودھری نے کہا کہ تجارتی وفود کا تبادلہ اور سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد باہمی تجارت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینل کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔








