فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام محض خواب بن کر رہ گیا ہے،عالمی یومِ یکجہتی فلسطین کے موقع پر سردار ایاز صادق کا پیغام

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے فلسطینی عوام سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ ان خیالات کا …

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے فلسطینی عوام سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ یکجہتی فلسطین کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کیا جو ہر سال 29 ستمبر کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منایا جاتا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل حملوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے نتیجے میں غزہ میں تاریخ کا بدترین انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو منظم طریقے سے ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ جاری نسل کشی کے نتیجے میں معصوم بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیماروں سمیت ہزاروں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جو نہایت شرمناک اور افسوسناک امر ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے غزہ پر مسلط غیر قانونی اور سفاکانہ محاصروں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غذائی امداد، بنیادی ضروریات اور جان بچانے والی ادویات کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنا جنگی جرم ہے۔

انہوں نے اس عمل کو انتہائی غیر اخلاقی اور غیر انسانی اقدام قرار دیا۔غزہ کی تباہ حال معاشرتی اور معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ فلسطینی عوام شدید انسانی بحران اور محرومیوں کا شکار ہیں جہاں روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور شہریوں کو خوراک، علاج، صاف پانی، رہائش اور سلامتی جیسے بنیادی انسانی حقوق تک بھی رسائی حاصل نہیں۔انہوں نے کہا کہ جاری نسل کشی اور انسانی المیے کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور پوری کی پوری آبادیاں مٹا دی گئی ہیں جبکہ ایک کمزور جنگ بندی کے سائے میں بھی صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، شہریوں کے تحفظ اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر موثر جوابدہی کو یقینی بنائے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ مستقل سفارتی کاوشوں اور علاقائی و عالمی فورمز پر فلسطینی مؤقف کے مؤثر دفاع کے باعث عالمی رائے عامہ میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

تاریخ میں پہلی بار مغربی ممالک بھی مسلم دنیا کے اصولی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے فلسطینی حقِ خودارادیت اور اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستِ فلسطین کو اب تک اقوامِ متحدہ کے 157 رکن ممالک نے تسلیم کر لیا ہے، جو عالمی ادارے کی مجموعی رکنیت کا 81 فیصد بنتا ہے۔ یہ فلسطینی جدوجہد کو حاصل ہونے والی بھرپور اخلاقی، قانونی اور سیاسی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے اور سفارتی، اخلاقی اور سیاسی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ایک ذمہ دار رکن اور سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل ریاستِ فلسطین، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کے قیام کے لیے عالمی و علاقائی فورمز پر مؤثر آواز بلند کرتا رہے گا۔

سپیکر سردار ایاز صادق نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی کو فوری طور پر رکوانے، غیر انسانی محاصرہ ختم کرانے اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن، انصاف اور انسانی وقار کو یقینی بنانے کے لیے عملی اور فوری اقدامات کرے۔

 

مزید خبریں