فن لینڈ کا خلیج فارس میں فوجی کردار سے انکار

ہیلسنکی۔22مارچ (اے پی پی):فن لینڈ کی وزیر خارجہ ایلینا والٹونن نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک خلیج فارس میں کسی بھی فوجی سرگرمی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔شنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ فن لینڈ نہ تو اس خطے میں فوجی سازوسامان بھیجے گا، تاہم اسٹاف افسر کی سطح پر محدود تعاون پر غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور …

ہیلسنکی۔22مارچ (اے پی پی):فن لینڈ کی وزیر خارجہ ایلینا والٹونن نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک خلیج فارس میں کسی بھی فوجی سرگرمی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔شنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ فن لینڈ نہ تو اس خطے میں فوجی سازوسامان بھیجے گا، تاہم اسٹاف افسر کی سطح پر محدود تعاون پر غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فن لینڈ چاہتا ہے کہ خطے میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر ختم ہوں اور شہریوں کے خلاف تشدد اور انفراسٹرکچر پر حملے بند کیے جائیں۔ ان کے مطابق تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے کیونکہ طویل عدم استحکام عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے، قیمتوں میں اضافہ کر سکتا ہے اور بین الاقوامی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ نیٹو کے رکن ممالک مشرق وسطیٰ کے تنازع میں امریکا کے ساتھ براہ راست شامل نہیں ہوں گے۔ان کا بیان دراصل صدر الیگزینڈر اسٹب کی جانب سے جاری کردہ ایک پیغام کی وضاحت کے طور پر سامنے آیا، جس میں فن لینڈ نے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس اہم گزرگاہ میں آمدورفت متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔