فوت شدہ مالکِ مکان کے نام پر کرایہ جمع کرانا کسی صورت قانونی حیثیت نہیں رکھتا ،ایسے کرایہ دار بے دخلی کے مستحق ہوں گے،سپریم کورٹ

اسلام آباد۔ 24 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فوت شدہ مالکِ مکان کے نام پر کرایہ جمع کرانا کسی صورت قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور ایسا کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے مستحق ہوں گے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی …

اسلام آباد۔ 24 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فوت شدہ مالکِ مکان کے نام پر کرایہ جمع کرانا کسی صورت قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور ایسا کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے مستحق ہوں گے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کراچی کے 6 جون 2023 کے فیصلے کے خلاف دائر سول پٹیشنز نمبر 1054-K اور 1055-K /2023 کی سماعت کے بعد درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت کے مطابق محمد رمضان مرحوم کے انتقال کے بعد ان کے تمام قانونی وارث قانون کے تحت خودبخود مالکِ مکان بن گئے تھے اور اس حوالے سے کسی نئے معاہدے یا باضابطہ اٹارنمنٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب قانونی وارثوں کی جانب سے نوٹس جاری ہو جائے اور اس کی وصولی بھی تسلیم شدہ ہو تو کرایہ دار ان وارثوں کو بطور مالک تسلیم کرنے اور انہیں کرایہ ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ زیرِ سماعت مقدمے میں کرایہ داروں نے نہ صرف مالک کی وفات کا اعتراف کیا بلکہ ان کی تدفین میں شرکت بھی کی، اس کے باوجود انہوں نے قانونی وارثوں کو کرایہ ادا کرنے کے بجائے مرحوم مالک کے نام پر عدالت میں کرایہ جمع کرانے کا سلسلہ جاری رکھا، جو کہ قانون کی نظر میں بے معنی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی ایک قانونی وارث کو بھی کرایہ وصول کرنے اور بے دخلی کی کارروائی شروع کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور کرایہ دار اس بنیاد پر ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا کہ دیگر وارث بھی موجود ہیں۔

عدالت کے مطابق مرحوم کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی تصور نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ سندھ رینٹڈ پریمیسز آرڈیننس 1979 کے تحت قانونی نوٹس کے باوجود کرایہ ادا نہ کرنا جان بوجھ کر نادہندگی (wilful default) کے مترادف ہے، جس پر بے دخلی کا حکم درست قرار پاتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی، آئینی یا دائرہ اختیار سے متعلق سقم نہ پاتے ہوئے دونوں درخواستیں خارج کر دیں جبکہ اخراجات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔