اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں بریت کے فیصلوں کو معمول کے طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور ایسے فیصلوں میں مداخلت صرف اسی صورت ممکن ہے جب سنگین قانونی خامیاں یا انصاف کی واضح خلاف ورزی ثابت ہو۔ عدالت نے جعلی نکاح نامہ کیس میں شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے بریت کے خلاف دائر فوجداری درخواست خارج کر دی۔سپریم …
فوجداری مقدمات میں بریت کے فیصلوں کو معمول کے طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا ، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں بریت کے فیصلوں کو معمول کے طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور ایسے فیصلوں میں مداخلت صرف اسی صورت ممکن ہے جب سنگین قانونی خامیاں یا انصاف کی واضح خلاف ورزی ثابت ہو۔ عدالت نے جعلی نکاح نامہ کیس میں شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے بریت کے خلاف دائر فوجداری درخواست خارج کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے فوجداری پٹیشن نمبر 213/2020 کی سماعت کے بعد درخواست مسترد کی۔
درخواست گزار شائستہ قیصر نے اپنے سابق شوہر الطاف احمد خان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 420 کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم نے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں ایک مبینہ جعلی نکاح نامہ جمع کرا کر غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔عدالت کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 22 جنوری 2020 کو ملزم کو بری کر دیا تھا، جبکہ اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے 12 فروری 2020 کو مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کی جانب سےپی اے سی کے کسی انکوائری آفیسر یا ریکارڈ کیپر کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، حالانکہ مقدمے کا انحصار انہی سرکاری ریکارڈز پر تھا۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ مبینہ جعلی نکاح نامہ نہ تو فرانزک جانچ کے لیے بھیجا گیا اور نہ ہی کسی ماہرِ تحریر سے اس کی تصدیق کروائی گئی۔عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار ابتدا ہی سے تمام حقائق سے باخبر تھیں، اس کے باوجود طلاق کے تقریباً سات سال بعد ایف آئی آر درج کروائی گئی، جس کی کوئی معقول وجہ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی جا سکی۔فیصلے میں کہا گیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 420 کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے دھوکہ دہی اور مجرمانہ نیت (mens rea) کا ابتدا سے موجود ہونا ضروری ہےجو اس مقدمے میں ثابت نہیں ہو سکا۔ عدالت کے مطابق اگر کوئی مبینہ دھوکہ دہی ہوئی بھی تو اس کا براہِ راست متاثرہ فریق متعلقہ ادارہ تھا، جس نے خود کسی قسم کی فوجداری کارروائی نہیں کی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بریت کے فیصلے میں مداخلت صرف اسی صورت ممکن ہوتی ہے جب فیصلہ بدنیتی، شواہد کی سنگین غلط تشریح یا انصاف کی واضح خلاف ورزی پر مبنی ہو، جبکہ موجودہ کیس میں ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں میں ایسی کوئی قانونی خامی ثابت نہیں ہوئی۔عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کو د ہرا فائدۂ بے گناہی حاصل ہے اور استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا فوجداری درخواست خارج کی جاتی ہے۔







