فوجداری مقدمات میں سزا قیاس آرائی یا عمومی الزامات پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید شواہد پر ہی دی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ
فوجداری مقدمات میں سزا قیاس آرائی یا عمومی الزامات پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید شواہد پر ہی دی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری نظامِ انصاف میں کسی ملزم کو محض قیاس آرائی، عمومی الزامات یا مضبوط شبہات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، بلکہ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ جرم کو ہر معقول شک سے بالاتر ہو کر قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کرے۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بلدیہ ٹاؤن کراچی فیکٹری آتشزدگی کیس میں 39 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو بری کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ بلاشبہ ملک کی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں سے ایک تھا جس میں 264 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تاہم ایسے حساس مقدمات میں بھی قانون تقاضا کرتا ہے کہ سزا صرف مضبوط اور قابلِ اعتماد ثبوتوں کی بنیاد پر دی جائے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ابتدائی ایف آئی آر میں فیکٹری مالکان اور انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات میں غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا تاہم تقریباً اڑھائی سال بعد بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو جان بوجھ کر آگ لگانے کی نئی کہانی سامنے آئی جسے استغاثہ معتبر شواہد سے ثابت نہیں کر سکا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عبدالرحمان عرف بھولا کا واپس لیا گیا۔ عدالتی اعترافِ جرم آزاد اور مضبوط شواہد سے ثابت نہیں ہوا جبکہ اسے گرفتاری کے 9روز بعد ریکارڈ کیا گیا اور اس تاخیر کی بھی کوئی قابلِ قبول وضاحت پیش نہیں کی گئی۔عدالت نے مزید کہا کہ فرانزک شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ فیکٹری میں آگ لگانے کے لئے کسی کیمیکل کا استعمال کیا گیا۔ اسی طرح سانحے میں زخمی ہونے والے گواہوں نے بھی ملزمان کے خلاف کوئی براہِ راست بیان نہیں دیا جبکہ فیکٹری میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی جو استغاثہ کے مقدمے میں ایک اہم خلا ءہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی سیاسی جماعت یا کسی طبقے کو عمومی الزامات یا مفروضوں کی بنیاد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ فوجداری مقدمات میں ہر الزام کا ثبوت ٹھوس، قابلِ قبول اور قانونی معیار پر پورا اترنے والے شواہد سے فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف مقدمہ معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا قانون کے مطابق دونوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔








