فوسپاہ نےمداخلت سے 1.7 ارب روپے مالیت کے وراثتی تنازعے کو حل کرا دیا

اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی (فوسپاہ) نے ایک تاریخی اقدام کے تحت اسلام آباد کے سیکٹر جی–8 میں واقع 1.7 ارب روپے مالیت کی کمرشل جائیداد کے وراثتی تنازعے کو حل کرا دیا۔ یہ کیس سال کے اہم ترین تنازعات میں شمار کیا جا رہا ہے جس میں فوسپاہ کی موثر ثالثی، شفافیت اور مسلسل رابطہ کاری نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ترجمان کے مطابق شکایت …

اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی (فوسپاہ) نے ایک تاریخی اقدام کے تحت اسلام آباد کے سیکٹر جی–8 میں واقع 1.7 ارب روپے مالیت کی کمرشل جائیداد کے وراثتی تنازعے کو حل کرا دیا۔ یہ کیس سال کے اہم ترین تنازعات میں شمار کیا جا رہا ہے جس میں فوسپاہ کی موثر ثالثی، شفافیت اور مسلسل رابطہ کاری نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ترجمان کے مطابق شکایت کنندہ نے فوسپاہ سے رجوع کیا تھا کیونکہ اسے جائیداد میں اپنے جائز وراثتی حصے سے محروم رکھا جا رہا تھا۔

بیشتر قانونی وارثین شریعت کے اصولوں کے مطابق جائیداد کی تقسیم پر آمادہ تھے تاہم ایک وارث نے اس عمل کی مخالفت کی اور ابتدائی طور پر کارروائی میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔ مذکورہ وارث کی غیر حاضری کے باعث یکطرفہ کارروائی عمل میں آئی اور جائیداد کو 1.675 ارب روپے کی ریزرو قیمت پر نیلامی کے لیے پیش کر دیا گیا۔بعد ازاں جب متنازعہ وارث دوبارہ کارروائی میں شامل ہوا تو اس نے جائیداد کی قیمت کو چیلنج کیا۔

فوسپاہ نے شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اس وارث سے کہا کہ وہ ممکنہ خریدار پیش کرے تاکہ اس کے دعوے کی جانچ ممکن ہو سکے۔ اگلے چند ہفتوں میں فوسپاہ کے لوکل کمیشن نے فریقین کی رہنمائی، دعوؤں کی تصدیق اور اعتماد سازی کے لیے مسلسل محنت کی۔ اس دوران ریونیو حکام نے بھی جائیداد کی ملکیت اور حیثیت کی تصدیق کر کے فوسپاہ کا ساتھ دیا۔صبر آزما سہولت کاری اور مستقل فالو اپ کے نتیجے میں خاندان اختلاف سے اتفاق کی جانب بڑھا اور بالآخر 1.7 ارب روپے کی نظرثانی شدہ قیمت پر تصفیہ طے پا گیا۔

اس تصفیے کے ذریعے تمام قانونی وارثین، بشمول بیوہ اور بیٹیاں، اپنے جائز حصے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔یہ کیس فوسپاہ کے قابلِ رسائی انصاف کے عزم کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ صنفی حساس ثالثی اور موثر رابطہ کاری کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ فوسپاہ کے مطابق گزشتہ تین سال میں ادارے نے خواتین کو 10 ارب روپے سے زائد مالیت کی جائیداد تک رسائی دلانے میں مدد فراہم کی ہے، جبکہ اکثر کیسز کا انجام وارثین کے درمیان تصفیے کی صورت میں نکلا جب انہیں یہ احساس ہوا کہ قانون واضح ہے اور ریاست خواتین کے وراثتی حق کے ساتھ کھڑی ہے۔

فوسپاہ نے واضح کیا کہ پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق قانون اور اسلامی اصولوں کے تحت تسلیم شدہ ہیں اور بھائیوں پر یہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بہنوں کو ان کا جائز حصہ بروقت اور بغیر کسی دباؤ یا رکاوٹ کے فراہم کریں۔ دباؤ، غلط معلومات، جعلی انتقالات یا سماجی جبر کے ذریعے خواتین کو وراثت سے محروم رکھنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف اور خاندانی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ خواتین کو جائیداد کے حق سے محروم رکھنا معاشی انحصار میں اضافہ، سودے بازی کی طاقت میں کمی اور صنفی امتیاز کو گہرا کرتا ہے، جبکہ اس کے برعکس خواتین کے جائز حصے کو تسلیم کرنا قانون کی بالادستی، معاشی بااختیاری اور انصاف و جواب دہی پر مبنی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔ فوسپاہ کے مطابق خواتین کو جائیداد تک بلا رکاوٹ رسائی دینا محض نجی معاملہ نہیں بلکہ ایک قانونی فریضہ ہے جس کے دور رس سماجی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔