فکر اقبال آج بھی قومی تعمیر، فکری بیداری اور اجتماعی شعور کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی

راولپنڈی ۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ وثقافت ڈویژن اورنگزیب کھچی نے کہا ہے کہ فکر اقبال آج بھی قومی تعمیر، فکری بیداری اور اجتماعی شعور کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ادارہ فروغ قومی زبان اور نجی بینک لمیٹڈ کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ قومی کانفرنس ’’فکر ِاقبال: دور ِحاضر میں ضرورت واہمیت‘‘ سے صدارتی خطاب کرتے …

راولپنڈی ۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ وثقافت ڈویژن اورنگزیب کھچی نے کہا ہے کہ فکر اقبال آج بھی قومی تعمیر، فکری بیداری اور اجتماعی شعور کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ادارہ فروغ قومی زبان اور نجی بینک لمیٹڈ کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ قومی کانفرنس ’’فکر ِاقبال: دور ِحاضر میں ضرورت واہمیت‘‘ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ فکرِ اقبال محض ایک ادبی یا فلسفیانہ بات نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری نظام ہے جو فرد، معاشرے اور ریاست تینوں سطحوں پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ کانفرنس کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے خیرمقدمی کلمات کہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو فکر اقبال سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اس طرح کے قومی مناظرے اورمکالمے ہوتے رہنا ایک صحت مند عمل ہے۔پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے اپنے خطاب میں اقبال کو عالمِ اسلام کی مشترکہ فکری میراث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقبال کی شاعری اور فکر مسلم دنیا میں فکری بیداری اور روحانی احیا کا سرچشمہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقبال ہوں، حافظ ہوں یا سعدی ان جیسی شخصیات کا تعلق کسی ایک دور سے نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیے علم کا سرچشمہ ہیں۔ اقبال کو ہمیشہ شاعر، فلسفی، جدوجہد آزاد ی کے سرخیل اور انقلابی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمداختروائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات کو اقبال کی فکر کو تحقیق، تنقید اور مکالمے کے ذریعے زندہ روایت کے طور پر آگے بڑھانا چاہیے تاکہ اقبال صرف نصابی حوالہ نہ رہیں بلکہ فکری رہنما بنیں۔پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمودوائس چانسلر علاّمہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد نے کہا کہ فاصلاتی نظام کے ذریعے اقبال کے افکار کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا جا سکتا ہے جو فکری شمولیت کی ایک موثر صورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہ اقبال کا پیغام سرحدوں سے ماوراء ہے۔ شاعر،محقق، کالم نگار اور دانشور محمد اظہار الحق نے کہا کہ ہمیں آج کے دور میں بھی ترقی کے لیے اقبال کا بتایا ہوا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔افغانستان اور ایران میں اقبال اور بیدل پڑھائے جاتے ہیں، ہمیں اقبال کے خود ی کے فلسفے کو اپنی نئی نسل میں پھر سے اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ پاکستان اور خانوادہ حضرت سلطان باہو کے چشم و چراغ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ دور حاضر میں اقبال کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ چراغ تیل سے جلتا اور پانی سے بجھتا ہے مگر یہ شاعر کا کمال ہے کہ وہ پانی سے چراغ جلا دیتا ہے۔

ایسے ہی اقبال نے مایوسی کے عالم میں اُمید کا چراغ اپنی شاعری کے پانی سے جلا کر دکھایا۔ اقبال کے خود انحصاری کے پیغام کو پھر سے اپنانے کی ضرورت ہے۔ دانشور ڈاکٹرقیصرہ علوی نے اقبال کی شاعری کے جمالیاتی اور فکری پہلووؤں پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے اقبال کے فکری ورثے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل تک اقبال کی فکر کو سادہ اور عصری انداز میں منتقل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

معروف دانشور و مصنف اور رکن رحمت اللعالمین اتھارٹی ڈاکٹر فاروق عادل نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ علاّمہ اقبال نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق علم و تحقیق کی طرف توجہ دینے اور برصغیر کے مسلمانوں کو جدید تقاضوں کے پیشِ نظر اُمت کے اتحاد اور اپنے تہذیبی و تمدنی سرمائے کی حفاظت کرتے ہوئے جدید علوم کے حصول کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ارشد محمود نوشاد، صدر شعبہ اُردو، علاّمہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے خطاب میں آج کے دور میں علاّمہ اقبال کے افکار سے استفادے پر زور دیا۔

ڈاکٹر امبر یاسمین،اُستاد شعبہ فارسی، نمل، اسلام آباد نے علاّمہ اقبال کے کلام سے حوالے دے کر موجودہ دور میں فکرِاقبال سے استفادہ کرتے ہوئے نوجوان نسل کو درخشاں مستقبل کی طرف توجہ دلائی۔ ڈاکٹر شگفتہ یاسین عباسی صدر شعبہ فارسی نمل اسلام آبادنے اظہار خیال کرتے ہوئے علاّمہ اقبال کے فکروفلسفہ سے بھرپور استفادہ کرنے کی تاکید کی۔ ڈاکٹر رابعہ کیانی اُستاد شعبہ فارسی اسلام آباد ماڈل کالج برائے طالبات F-7/2 اسلام آباد نے گفتگو کرتے ہوئے اقبال کی تعلیمات کو خاص طور پر موجودہ دور میں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور اس سے کسبِ فیض کی تاکید کی۔

کانفرنس کے اختتام پر،10۔ دسمبر2025ء کو ادارہ فروغِ قومی زبان میں منعقدہ ترنُّم سے کلام اقبال سنانے کے مقابلے میں پوزیش ہولڈزر طلبا و طالبات کو تعریفی اسناد کے ساتھ ساتھ نقد انعامات بھی دئیے گئے جبکہ مقابلے میں شریک تمام طلبا و طالبات کو شرکت پرتعریفی اسناد دی گئیں۔مقابلے میں پہلی پوزیشن پر ۳۰ ہزار، دوسری پوزیشن پر ۲۰ ہزار، تیسری پر ۱۵ ہزار اور چوتھی پر دس ہزار کیش انعامات دیئے گئے۔

حاضرین کو ایک یادگار روحانی و جمالیاتی تجربہ فراہم کرنے کے لیے محفلِ کلامِ اقبال منعقد کی گئی، جس میں معروف گلوکاراُستادراجہ حامد علی نے علاّمہ اقبالؒ کے منتخب کلام کو نہایت سوز و گداز اور فنی مہارت کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی آواز اور ترنُّم نے سامعین کو اقبال کے فکری اور روحانی جہان میں محو کر دیا اور کانفرنس کو ایک پُراثر اختتام سے ہمکنار کیا۔