فیڈرل بورڈ آف ریونیو انکم ٹیکس کے 5 کروڑ روپے تک کے ری فنڈز کی ادائیگی کرنے اورباقی ماندہ ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے واضح روڈمیپ اورحکمت عملی وضع کرے وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ اورمشیرتجارت عبدالرزاق دائودکی ایف بی آر کو ہدایت

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ اورمشیرتجارت عبدالرزاق دائود نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو آئندہ ہفتوں میں انکم ٹیکس کے 5 کروڑ روپے تک کے ری فنڈز کی ادائیگی کرنے اورباقی ماندہ ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے واضح روڈمیپ اورحکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ ہدایات جمعرات کو یہاں وزارت خزانہ میں اجلاس کی …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ اورمشیرتجارت عبدالرزاق دائود نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو آئندہ ہفتوں میں انکم ٹیکس کے 5 کروڑ روپے تک کے ری فنڈز کی ادائیگی کرنے اورباقی ماندہ ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے واضح روڈمیپ اورحکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ ہدایات جمعرات کو یہاں وزارت خزانہ میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں وفاقی وزیرصنعت وپیداوار، وزیرتوانائی عمرایوب خان، مشیرتجارت عبدالرزاق دائود، وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چئیرمین فیض اللہ کموکہ، چئیرمین ایف بی آر جاوید غنی جبکہ ملک بھرسے معروف بزنس مینوں اورکاروباری شخصیات نے زوم کے ذریعہ اجلاس میں شرکت کی۔ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ حکومت کی یہ واضح پالیسی ہے کہ تمام ٹیکس ری فنڈز خواہ وہ نئے ہوں یا پرانے ، کسی جوازکے بغیرادا کئے جائے۔انہوں نے اجلاس کے شرکاء کوبتایا کہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 140 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈز اداکئے ہیں جومالی سال 2018-19 ء کے مقابلے میں تقریباً ڈبل ہے، اسی طرح حکومت نے پہلے مرحلہ میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے تک کے انکم ٹیکس ری فنڈز کی ادائیگی شروع کردی ہے، 5 کروڑ روپے تک کے انکم ٹیکس ری فنڈز اگلے مرحلہ میں ادا کئے جائیں گے، یہ کام آئندہ دو ہفتوں میں مکمل ہوگا، 5 کروڑ روپے تک کے انکم ٹیکس ری فنڈز کی ادائیگی کومکمل کرنے پر40 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اجلاس میں زیروریٹڈ اوربرآمدی شعبہ کو گیس اوربجلی رعایتی نرخوں پردینے سے متعلق امورکا بھی جائزہ لیا گیا اورفیصلہ کیا گیا کہ جاری مالی سال کیلئے اس مد میں مختص 20 ارب روپے کے استعمال کے حوالہ سے اتفاق رائے کیلئے ایک اوراجلاس منعقد ہوگا۔

مزید خبریں