اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و منشیات کنٹرول نے بزرگ شہریوں کی سہولت کے لئے تاریخی قانون سازی کی منظوری دیتے ہوئے، اسلام آباد انتظامیہ کو شہر کے اندرونی حصوں سے تمام غیر ضروری پولیس ناکے فوری طور پر ہٹانے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے جس کی صدارت چیئرمین راجہ …
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا بزرگ شہریوں کو بڑی رعایت دینے کا فیصلہ، شہر کے اندرونی پولیس ناکے فوری ختم کرنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و منشیات کنٹرول نے بزرگ شہریوں کی سہولت کے لئے تاریخی قانون سازی کی منظوری دیتے ہوئے، اسلام آباد انتظامیہ کو شہر کے اندرونی حصوں سے تمام غیر ضروری پولیس ناکے فوری طور پر ہٹانے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے جس کی صدارت چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز نے کی۔
اجلاس میں وزرائے مملکت، اراکینِ قومی اسمبلی اور وزارتِ داخلہ و قانون کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے ڈاکٹر شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کردہ ‘اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری سینئر سیٹیزنز بل 2025’ کی منظوری دے دی جس کے تحت اب بزرگ شہری علیحدہ کارڈ کی بجائے صرف اپنے اصل شناختی کارڈ کی بنیاد پر تمام سرکاری مراعات اور رعایتیں حاصل کر سکیں گے۔ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ کو پابند کیا ہے کہ اس قانون کے قواعد و ضوابط چھ ماہ کے اندر مکمل کئے جائیں تاکہ بزرگ شہریوں کو دفاتر کے چکروں سے نجات مل سکے۔
شہر میں ٹریفک کی ابتر صورتحال اور عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے ڈی آئی جی ٹریفک کو حکم دیا کہ اسلام آباد کے اندرونی ناکے فوری ختم کر کے سکیورٹی کو صرف داخلی اور خارجی راستوں تک محدود کیا جائے۔ کمیٹی نے ترامڑی چوک، لہتراڑ روڈ اور علی پور بینک سٹاپ پر ٹریفک جام کے مسائل فوری حل کرنے اور پولیس اہلکاروں کو گاڑیوں کی ڈیجیٹل شناخت کے لئے جدید آلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
علاوہ ازیں پولیس اہلکاروں کے غیر پیشہ وارانہ رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تربیت اور اخلاقیات کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران سی ڈی اے کو ہدایت کی گئی کہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کے متاثرین جن کی اراضی حاصل کی جا چکی ہے، انہیں معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر پر ایک ہفتے کے اندر جامع رپورٹ پیش کی جائے۔
کمیٹی نے شہریت کے قانون اور مقامی حکومتوں کے ترمیمی بلز پر مزید مشاورت کے لئے انہیں آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا جبکہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سکریننگ کے حوالے سے پیش کردہ بل کو بحالی کے مناسب فریم ورک کی کمی کے باعث منظور نہ کرنے کی سفارش کی۔







