اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کی نجکاری کے لیے نیلامی کے شفاف عمل پر وزارتِ دفاع کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔ کمیٹی نے پی آئی اے کے نئے مالک کے اس بیان کی بھی تعریف کی جس میں انہوں نے ملازمین کے حقوق کا خیال رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس بدھ …
قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا پی آئی اے کی نیلامی کے شفاف عمل پر وزارتِ دفاع کو خراجِ تحسین، ملازمین کے تحفظ کے عزم کی تعریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کی نجکاری کے لیے نیلامی کے شفاف عمل پر وزارتِ دفاع کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔ کمیٹی نے پی آئی اے کے نئے مالک کے اس بیان کی بھی تعریف کی جس میں انہوں نے ملازمین کے حقوق کا خیال رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی چیئرمین فتح اللہ خان میانخیل کی سربراہی میں منعقد ہوا۔
اجلاس کو وزارتِ دفاع کی جانب سے بتایا گیا کہ عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی کے ساتھ پی آئی اے کی نیلامی کامیابی سے جیت لی ہے۔ کمیٹی نے شفاف بولی کے عمل کو سراہنے کے ساتھ ساتھ نئے مالکان کی جانب سے مستقبل قریب میں فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے عزم کی بھی تعریف کی۔کمیٹی نے نجی ایئر لائنز اور ایوی ایشن سیکٹر کے آپریشنل مسائل پر سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں پروازوں کی باقاعدگی، منسوخی، تاخیر اور کرایوں کے ڈھانچے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اراکین نے مقامی ہوائی کرایوں میں اضافے اور مسافروں پر اس کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئر لائن آپریٹرز پر زور دیا گیا کہ وہ سروس کے معیار، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی توسیع کے ساتھ ساتھ مقامی آپریشنز کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں ایئر لائن انڈسٹری کو درپیش مالی چیلنجز اور موجودہ ٹیکس نظام کا جائزہ لیا گیا۔ اراکین نے نوٹ کیا کہ ڈالر کی قیمت میں ٹکٹیں اتنی مہنگی نہیں ہوئیں جتنا کہ سیلز ٹیکس سمیت مختلف ٹیکسوں کے نفاذ نے ایئر لائنز پر بوجھ ڈالا ہے۔
یہ فیصلہ کیا گیا کہ ٹیکس نظام اور اس کے ایوی ایشن سیکٹر پر اثرات کے بارے میں ایک جامع سٹڈی رپورٹ وزیرِ دفاع اور بعد ازاں وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔ چیئرمین کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی کہ وہ وزیرِ خزانہ سے ملاقات کر کے ٹیکسوں کو معقول بنانے پر بات کریں۔کمیٹی نے دفاعی اور ایوی ایشن سیکٹر کے ترقیاتی منصوبوں پر زور دیتے ہوئے وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ دفاع کو تزویراتی ہوائی اڈوں اور نیشنل ایوی ایشن سکیورٹی اکیڈمی جیسے منصوبوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ ایوی ایشن تنصیبات پر طبی سہولیات، تابکاری کے اثرات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی جیسے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ کمیٹی نے مسلح افواج اور پولیس میں بھرتیوں کے قوانین میں نرمی کے حوالے سے وزیراعظم آفس اور وزارتِ خزانہ سے فالو اپ لینے کا بھی فیصلہ کیا۔







