قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے، نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے، سپریم کورٹ

اسلام آباد ۔ یکم ستمبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے سندھ خصوصاً کراچی میں لوڈ شیڈنگ کیخلاف از خود نوٹس کیس پر سماعت چار ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ عدالت عظمی نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیدیا ہے ،سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے، نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک …

اسلام آباد ۔ یکم ستمبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے سندھ خصوصاً کراچی میں لوڈ شیڈنگ کیخلاف از خود نوٹس کیس پر سماعت چار ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ عدالت عظمی نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیدیا ہے ،سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے، نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے، عدالت نے دس دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران تعینات کرنے کا حکم بھی دیدیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع خارج کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی، سپریم کورٹ نے نیپرا سے کارروائی پر مبنی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سندھ خصوصاً کراچی میں لوڈ شیڈنگ کیخلاف از خود نوٹس کیس پر سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان، سیکرٹری پاور ڈویژن عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لیکر بنائی گئی، کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں، ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا،مسقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اس کا بتایا جائے، پاور ڈویژن والوں کو کراچی لے جائیں دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں، کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری پاور ڈویژن کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو کے الیکٹرک والوں نے کتنے پیسے دیے ہیں جواب جمع کرانے کے؟ اداروں کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں،اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے کہا تھا کہ نیپرا اور دیگر ادارے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل نکال کر آئیں، کراچی میں بارشوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے،کراچی کے شہری اس وقت کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک والے کراچی شہرکیساتھ بہت برا کر رہے ہیں ، آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کرینگے، شہریوں کے منہ سے نوالا بھی چھین لیا جاتا ہے،کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے،کراچی میں لوگوں کے بیرون ملک بنک اکاﺅنٹس حرکت میں آگئے ہونگے،فارن بنک اکاﺅنٹس میں پیسے جارہے ہیں،4 سال تک کراچی کا میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی،لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کیے گئے ہیں،کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے،لگتا ہے سارے گھوسٹ ملازمین بھرتی ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ 2015ءسے کے الیکٹرک نے حکومت کو ایک روپیہ نہیں دیا، کے الیکٹرک عوام کوبجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی ،کراچی پہلے 60 سے 70فیصد ریونیو دیتا تھا اب اس کے پاس کچھ نہیں، خوامخواہ کہا جاتا ہے کہ کراچی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے،شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ پاور ڈویژن کا جواب واپس لیتا ہوں نیا جواب جمع کرائینگے۔ کے الیکٹرک کے پاس پیداواری صلاحیت نہیں تو پھر بجلی پیداوار کا خصوصی اختیار ختم ہو جاتا ہے، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آج کے الیکٹرک کے خصوصی اختیار کا معاملہ ختم ہی کر دیتے ہیں، دوران سماعت کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے الیکٹرک شہر میں 2900 میگاواٹ بجلی سپلائی کررہا ہے۔ اس دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ جب کے الیکٹرک نے معاہدہ کیا تھا تب بھی شہر کی صورتحال ایسی تھی، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک والے ’سٹے آرڈر ‘{لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہم نے جس دن سے نوٹس لیا ہے، کراچی شہر کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے، شہر سے باقی سارا جوس نکال لیا گیا ہے جو چند قطرے بچے ہیں وہ بھی نکال رہے ہیں، پاور ڈویژن والے لکیر کے فقیر ہیں، جواب تیار کرتے وقت اپنا دماغ تک استعمال نہیں کیا، تمام حکومتی ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کے لئے ہیں، پاور ڈویژن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے، سیکرٹری پاور ڈویژن آپ اپنی سمت درست کریں۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے سیکرٹری پاور ڈویژن کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کے پاس اختیارات ہیں اس کا استعمال کریں، زبانی کلامی کچھ نہیں ہوگا، ادارے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں شہری سکون سے رہ سکیں،پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں ہے ،ملک میں پیٹرول کا بڑا سکینڈل آیا، دس روز تک ملک مکمل بند رہا، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرول کے معاملے پر کمیشن بنایا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا۔ اس دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سانپ نکل گیا ہے اور آپ لکیر پیٹ رہے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومتی معاملات سمجھ سے باہر ہیں،کے الیکٹرک کے مسائل حل کرنے کے لئے ون ونڈو آپریشن کیوں نہیں؟ بعد ازاں کیس سے متعلق عدالت عظمیٰ سے جاری تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت دس روز میں اپیلٹ ٹربیونل کے ممبر لگا کر اسے فنکشنل کرے اور ٹربیونل کو اختیارات دیتے ہوئے معاملہ حل کیا جائے، تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ مسترد کی جاتی ہے، پاور ڈویژن کی رپورٹ نیپرا جواب کے متصادم ہے جبکہ نیپرا، پاور ڈویژن اور این ٹی ڈی سی میں ہم آہنگی بھی نہیں ہے، کے الیکٹرک سے متعلق وزارت توانائی تمام متعلقہ محکموں سے مشاورت کو یقینی بنائے۔ تحریری حکمنامے میں بتایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کے مطابق کراچی میں حالات دن بدن ابتر ہورہے ہیں،آدھے کراچی میں بجلی تاحال بند ہے، اٹارنی جنرل نے الیکٹرک پاور ایکٹ کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا مشورہ دیا ہے۔

مزید خبریں