بلوچستان کے موسمیاتی اقدامات کو COP-31 میں عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کیاجائیگا،سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی

سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات بلوچستان نور احمد پرکانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش موسمیاتی و ماحولیاتی چیلنجز کے مقامی اور قابلِ عمل حل

کوئٹہ۔ 04 ستمبر (اے پی پی):سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات بلوچستان نور احمد پرکانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش موسمیاتی و ماحولیاتی چیلنجز کے مقامی اور قابلِ عمل حل، بالخصوص پانی کے تحفظ، خشک سالی سے نمٹنے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے حوالے سے صوبے کے نمایاں اقدامات کو آئندہ COP-31 کے عالمی فورم پر موثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ (MoCC&EC) حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام COP-31 میں پاکستان کی موثر نمائندگی اور پاکستان پویلین کے قیام کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی بین الصوبائی مشاورتی اجلاس میں بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس بذریعہ زوم منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نور احمد پرکانی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی، جبکہ بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (BEPA) کی جانب سے ڈائریکٹر انفورسمنٹ بھی شریک ہوئے۔سیکرٹری نور احمد پرکانی نے اجلاس میں بلوچستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ خشک اور نیم خشک موسمی خطے میں واقع ہونے کے باعث بلوچستان طویل عرصے سے پانی کی قلت، خشک سالی، زمینی انحطاط اور دیگر سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، تاہم صوبے میں موسمیاتی موافقت، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے متعدد اہم اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ COP-31 میں بلوچستان کے مختلف فلیگ شپ منصوبوں اور کامیاب ماڈلز کو پاکستان کے قومی موسمیاتی بیانیے کا حصہ بناتے ہوئے عالمی سطح پر پیش کیا جائے گا۔ ان اقدامات میں تقریباً ایک لاکھ ایکڑ رقبے پر مصدقہ نامیاتی کپاس کی پیداوار اور 20 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر زیتون کی شجرکاری نمایاں ہیں۔نور احمد پرکانی نے کہا کہ زیارت اور قلات کے قدیم جونیپر جنگلات اور شیرانی کے چلغوزہ جنگلات کے سائنسی تحفظ، زرعی ٹیوب ویلز کی بڑے پیمانے پر سولرائزیشن اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات بھی عالمی فورم پر پیش کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا 34 ہزار ہیکٹر پر محیط میگا کاربن آف سیٹ منصوبہ، جس کی متوقع گنجائش 700 ملین ٹن بتائی گئی ہے، اس کے علاوہ کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ، رینج لینڈ مینجمنٹ اور رین واٹر ہارویسٹنگ کے ماڈلز بھی بلوچستان کی موسمیاتی کارروائیوں اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کی مثالوں کے طور پر اجاگر کیے جائیں گے۔

اجلاس میں COP-31 میں پاکستان پویلین کے قیام سے متعلق مالیاتی اور انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی حکومت، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ سفارتی مشنز وینیو رجسٹریشن، لاجسٹک رہنمائی اور ایکریڈیشن و پارٹی بیجز سمیت ضروری امور میں سہولت کاری فراہم کریں گے، جبکہ وفود کی شرکت سے متعلق دیگر مالی اخراجات متعلقہ صوبائی حکومتیں اور خودمختار ادارے برداشت کریں گے۔

 

مزید خبریں