پاکستان میں صارفین کا اعتماد بتدریج بحال ہورہا ہے، خرم شہزاد
پاکستان میں صارفین کا اعتماد بتدریج بحال ہورہا ہے، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزادنے کہاہے کہ پاکستان میں صارفین کا اعتماد بتدریج بحال ہورہا ہے، بحالی کو پائیدار بنانے کے لیے معاشی استحکام اور مہنگائی میں کمی کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔جمعہ کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے آئی پی ایس اوایس(آئیپسوس ) کے حالیہ سروے کے اعدادوشمارکے دیتے ہوئے کہاہے کہ آئیپسوس کے تازہ ترین کنزیومر کانفیڈنس سروے کے مطابق 2026ء کی تیسری سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد کا اشاریہ 33.2 سے بڑھ کر 33.6 ہوگیا۔
آئیپسوس کے مطابق دوسری سہ ماہی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث صارفین کے اعتماد میں کمی کے بعد حالیہ سروے میں صورتحال میں بتدریج استحکام اور اعتماد کی بحالی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔سروے کے مطابق 24 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جو دو سال قبل کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کے حوالے سے عوامی تشویش میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور مہنگائی کو اہم مسئلہ قرار دینے والوں کی شرح 9 پوائنٹس کمی کے بعد 69 فیصد رہ گئی ہے۔ اسی طرح 23 فیصد صارفین نے توقع ظاہر کی کہ ملکی معیشت آنے والے چھ ماہ کے عرصے میں مزید مضبوط ہوگی۔ یہ شرح بھی دو سال قبل کے مقابلے میں تقریبا دو گنا ہے۔
سروے کے مطابق گھرانوں کی مالی صورتحال اور بڑی خریداری کے حوالے سے صارفین کے اعتماد میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مستقبل کی معاشی توقعات، سرمایہ کاری اور روزگار کے حوالے سے بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔ معاشی توقعات کے اشاریے میں 0.7 پوائنٹس، سرمایہ کاری کے رجحان میں 1.4 پوائنٹس اور روزگار کے حوالے سے اعتماد میں 1.5 پوائنٹس اضافہ ہوا۔
آئیپسوس کا کہنا ہے کہ صارفین کے اعتماد میں بہتری اگرچہ محتاط نوعیت کی ہے تاہم اس کی سمت حوصلہ افزاء ہے۔ اب اہم چیلنج معاشی استحکام کو برقرار رکھنا، مہنگائی پر مزید قابو پانا اور بہتر ہوتی معاشی توقعات کو روزگار کے مواقع، آمدنی میں اضافے اور گھرانوں کے مالی اعتماد میں تبدیل کرنا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان میں صارفین کا اعتماد بتدریج بحال ہورہا ہے تاہم اس بحالی کو پائیدار بنانے کے لیے معاشی استحکام اور مہنگائی میں کمی کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔








