قتل کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابل قبول، سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سے ایک ہفتے میں سفارشات طلب کرلیں

قتل کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابل قبول، سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سے ایک ہفتے میں سفارشات طلب کرلیں

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے سندھ میں قتل کے مقدمات کی ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے آئی جی سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے ایک ہفتے میں تحریری سفارشات طلب کرلی ہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پیر کو درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ دو، تین دن تاخیر سے ایف آئی آر درج ہوگی تو ملزمان کی بریت ہوگی، سندھ میں سزا کا تصور ہی نہیں، قتل کیسز کی ایف آئی آر میں تاخیر ناقابل قبول ہے۔جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ گھناؤنے جرائم میں فوری ایف آئی آر درج کی جائے، ایف آئی آر کے اندراج کے لئے اجازت لینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

ملزم بااثر ہو تو روزنامچہ بند ہوجاتا ہے، صاحب بہادر بیٹھے ہیں، فریادی وہی کہے گا جو آپ کہیں گے، قتل کیس میں وڈیرے کی اجازت کا انتظار ہوتا ہے۔جسٹس صلاح الدین پہنور نے مزید کہا کہ بہت ہوگیا، اس پالیسی کو چھوڑیں، گھناؤنے جرائم میں فوری ایف آئی آر درج کریں۔ پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کرنے کا ایس او پی جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایف آئی آر میں تاخیر پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تجویز بھی دی۔عدالت نے تاخیر سے ایف آئی آر کے معاملے پر آئی جی سندھ سے واضح اور دوٹوک پالیسی طلب کرلی۔

آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔جسٹس صلاح الدین پہنور نے آئی جی سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہاتھ بندھے ہیں تو ہم انہیں کھولنا چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو ایک ہفتے میں تحریری سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔