اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان نے ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کی پراکسی وار اور غیر اعلانیہ جنگ قرار دیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں اور دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔پیر …
قومی اسمبلی اجلاس، تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کی ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ کی مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان نے ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کی پراکسی وار اور غیر اعلانیہ جنگ قرار دیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں اور دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں معمول کی کارروائی روک کر ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ کو زیر بحث لایا گیا۔
پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات رکے ضرور تھے لیکن ترلائی کے واقعہ نے ہمیں جھنجھوڑا ہے کہ یہ وقفہ ہم نے خود لیا ہے،ہمیں دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے،دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے بڑے ادارے نیکٹا کا مجھے ایوان نے رکن نامزد کیا لیکن اس کا ایک اجلاس نہیں ہوا۔سابق سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ترلائی مسجد میں خودکش حملہ میں قیمتی جانیں گئیں،زخمیوں کی ہسپتال جاکر عیادت کی،اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں،اس سے قبل بلوچستان میں،کے پی میں ایسے واقعات ہوئے ہیں اور مسلسل ایسے واقعات ہورہے ہیں۔جو قابل مذمت ہیں۔
جمیعت علمائے اسلام کے رکن مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ترلائی کے مقام پرامام بارگاہ پر دھماکہ میں درجنوں افرادجاں بحق ہوئے،جے یو آئی اس کی پرزور مذمت اور پسماندگان سے اظہار ہمدردی کرتی ہے۔ہم بلوچستان کا رونا رو رہے تھے جہاں لوگ مارے گئے،زخمی ہوئے،وہاں خوف کا راج ہے۔ابھی یہ دکھ تھا کہ اسلام آباد میں نمازیوں پر حملہ ہوگیا۔سوال یہ ہے کہ اس کا سدباب کیوں نہیں ہوتا۔ عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومت کی رٹ نہیں ہے،اسے بحال کیاجائے،ہم بھارت کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑے رہے،ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رکن آسیہ اسحاق نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی،ترقی مقامی حکومتوں سے وابستہ ہے،وارڈ کے کونسلر اپنی وارڈ میں رہنے والوں کی شناخت کرسکتا ہے۔ان کی حفاظت کے لئے اقدامات اٹھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 40 ٹن بارود پکڑا گیا،یہ سیکیورٹی فورسز اور ایجنسیوں نے پکڑا۔ان کو مورد الزام ٹھہرانا آسان ہے،اپنی نالائقی کا ملبہ ان پر نہ ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ اقتدار اور وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کیاجائے۔
جمیعت علمائے اسلام کی رکن صدف احسان نے کہا کہ ہمیں اپنی اسٹیبلشمنٹ کو سراہنا چاہیے،جس طرح وہ ہمارے ملک کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات اٹھاتے ہیں،ہمیں اپنے ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ کیسے امن قائم ہو۔ملک بھر میں دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے،ہمیں اپنے ملک کی سلامتی کے لئے سوچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بطور قوم پاکستان میں امن کے حوالے سے سوچنا چاہیے۔
خرم شہزاد نواز نے کہا کہ میرے حلقہ میں یہ واقعہ ہوا اور میں تین دن تک سو نہیں سکا۔ یہ واقعہ قابل مذمت ہے۔ سحرکامران نے کہاکہ دہشت گردتنظیمیں اب بے نام چہرے نہیں ہیں،اجے دیول کی حکمت عملی یہی تھی کہ پاکستان کوکس طرح عدم استحکام کاشکاربنایاجائے اوراسلئے اسے باربارتوسیع بھی دی جارہی ہے،دہشت گرداسلئے کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ہمدردموجودہیں،محض قراردادوں سے ہماری ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتی، ہمیں نیشنل ایکشن پلان پرمن وعن عمل درآمدکرناہوگا۔








