قومی اسمبلی میں اراکین کی سینیٹ کی جانب سے موصول ہونے والی سفارشات کی حمایت، اشیائے خوردونوش پر سیلز ٹیکس میں کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کی سفارش درست قرار

قومی اسمبلی میں اراکین نے سینیٹ کی جانب سے موصول ہونے والی سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اشیائے خوردونوش پر سیلز ٹیکس میں کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کی سفارش درست ہے تاہم پیٹرول اور ڈیزل میں ملاوٹ کر کے فروخت کی جانے والی آئل مصنوعات پر 80 روپے فی لیٹر لیوی کا فیصلہ درست ہے

اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں اراکین نے سینیٹ کی جانب سے موصول ہونے والی سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اشیائے خوردونوش پر سیلز ٹیکس میں کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کی سفارش درست ہے تاہم پیٹرول اور ڈیزل میں ملاوٹ کر کے فروخت کی جانے والی آئل مصنوعات پر 80 روپے فی لیٹر لیوی کا فیصلہ درست ہے، اس کو واپس نہیں لینا چاہیے، صوبائی حکومتوں کی جانب سے مقامی حکومتوں کو فنڈز نہ دینے کے باعث وفاقی بجٹ سے براہ راست مقامی حکومتوں کیلئے فنڈز مختص کئے جانے کی تجویز اہم ہے اس پر عمل ہونا چاہیے۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں سینیٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ سینیٹ کی جانب سے ایڈوانس ٹیکس 8 فیصد تک لانے،بجلی پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کی سفارش اہم ہے اس پر عمل ہونا چاہیے۔ پٹرولیم لیوی کو کیپ کرنے کی سفارش بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کی تمام سفارشات معاشی ترقی اور ملک کے لئے اہم ہیں۔اپوزیشن رکن عمیر خان نیازی نے کہا کہ سینٹ کی سفارشات بامعنی ہیں،یوتھ سکیموں پر اعتراض درست نہیں ہے،پٹرول میں ملاوٹ کرکے بیچے جانے والے تارپین اور دیگر پر 80 روپے فی لیٹر ایف ای ڈی کا نفاذ کا مقصد سینٹ کو دیکھنا چاہیے تھا۔ برائی کو روکنے کے حوالے سے اگر کوئی ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے تو یہ درست ہے، اس کے خاتمے کا مطالبہ درست نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کی رکن نعیمہ کشور نے کہا کہ صنعت کو گیس و بجلی کے ٹیرف کی سفارش اچھی تجویز ہے، ضم اضلاع کی ٹیکس چھوٹ کے حوالے سے سینٹ سفارشات میں بات نہیں کی گئی۔ زراعت کے حوالے سے سینٹ سفارشات اہم ہیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، بیرونی وفود کو الکحل لانے کی اجازت دینے کی سفارش درست نہیں ہے۔ملازمین کی تنخواہیں 15 فیصد کرنے کی سفارش کی حمایت کرتے ہیں،مہنگائی کی شرح سے اضافہ ہونا چاہیے۔جامعات کو مراعات دینے کی سفارش کی بھی حمایت کرتے ہیں۔مقامی حکومت کو مرکز سے براہ راست فنڈنگ کی سفارش کو بھی سپورٹ کرتے ہیں،صوبے مقامی حکومتوں کو فنڈز نہیں دیتے،صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کی ضرورت ہے، اپنا گھر سکیم کے تحت بلاسود قرضہ ہونا چاہیے۔ تمباکو ٹیکس میں اضافہ کی حمایت کرتے ہیں۔عامر ڈوگر نے کہا کہ سینٹ نے پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کو الگ کرنے کی سفارش اہم ہے،ٹیلی کام سیکٹر پر ایڈوانس 15 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی سفارش اہم ہے۔کھاد پر انکم ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔وفاقی حکومت کے ملازمین کے لئے تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے،حیدآباد سکھر موٹر وے پر کام رواں سال سے شروع اور اس کے لئے فنڈز میں اضافہ کیاجائے۔ تاجکستان پاکستان ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر کام ہونا چاہیے۔پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کا پاکستان کو موقع ملا ہے، اس منصوبے کو مکمل کیاجائے۔سابق سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ تمباکو پر ٹیکس افراط زر کے مطابق بڑھانے کی تجویز درست ہے تاہم یہ سگریٹ پر ہونا چاہیے،پیداوار پر ٹیکس لگانے سے کاشتکار متاثر ہوتا ہے۔تمباکو کو زرعی پیداوار قرار دینے کی ضرورت ہے، اس پر ٹیکس ختم کیاجائے۔اپوزیشن رکن شبیر قریشی نے کہا کہ سینٹ کی سفارشات میں جاری سکیموں کی تکمیل کی سفارش کی گئی ہے،مظفرگڑھ یونیورسٹی کے لئے پی ایس ڈی پی میں مختص 10 کروڑ کو بڑھا کر 1 ارب کیا جائے۔ عاطف خان نے سینٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام ائیر لائن کو ریلیف دینے کی بات کی جائے، یورپ اور امریکا کے لئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بزنس کلاس کے ساتھ اکانومی کلاس کو بھی ریلیف دیا جائے۔ صاحبزادہ صبغت اللہ نے کہا کہ سینٹ سفارشات کی حمایت کرتے ہیں،چکدرہ سے لواری ٹنل تک سڑک پر کام شروع کیا جائے۔ عائشہ نذیر جٹ نے کہا کہ ملک میں پیٹنٹ ٹیکنالوجی کی سہولت ہونی چاہیے،اس حوالے سے جو سفارش کی گئی ہے اس کو منظور کیاجائے،اس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے سکالرز ریسرچ فیلوشپ کے لئے بیرون ملک جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے۔ اشیا ءخوردونوش پر سیلز ٹیکس میں کمی کیا جائے۔ گوہر علی خان نے کہا کہ سینیٹ سفارشات میں قرضوں کے انتظام سے متعلق اہم سفارش ہے، یہ حکومت کی ایک بڑی ذمہ داری ہے ہم مسلسل قرض لے رہے ہیں تاہم ان کی واپسی کیلئے موثر اور دیرپا حکمت عملی نظر نہیں آتی، ہمیں اپنے قرضوں کو مزید ذمہ دارانہ اور پائیدار بنانا ہو گا تاکہ آئندہ نسلوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔ نیشنل ڈیزاسٹر فنانشل رسک مینجمنٹ کے حوالے سے جو سفارشات پیش کی گئی ہیں اس میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہمارے پاس بعض انتظامات موجود ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مستقل نیشنل ڈیزاسٹر فنڈ قائم کیا جائے جس میں وفاق و صوبے باقاعدگی سے اپنا حصہ ڈالیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اصل ضرورت قدرتی آفات سے بچائو کے اقدامات پر سرمایہ کاری کرنے کی ہے، وفاق اور صوبے اس فنڈ میں تعاون کریں، قدرتی آفات سے کوئی بھی اکیلا نہیں نمٹ سکتا۔ شہزادہ گستاسپ نے سینٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کچھ علاقوں میں فنڈنگ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے،تناول کے علاقے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔حمید حسین نے کہا کہ سولر بیٹریوں پر ٹیکس میں اضافہ واپس لینے کی سفارشات درست ہے،ضم شدہ اضلاع میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بہت زیادہ ہے۔فارنرز کی بیرون ملک سے الکحل ساتھ لانے کی مقدار مقرر کی جائے۔اندرون ملک سکالرشپ کے لئے زیادہ فنڈز مختص کئے جائیں۔ہماری بند روڈیں کھولی جائیں اور آئی ڈی پیز کو واپس اپنے علاقوں میں لے جایا جائے۔

مزید خبریں