قومی اسمبلی نے سینئرصحافی اعجاز احمد کے ساتھ نارواسلوک اورکراچی میں صحافی امتیازمیرکے قتل کے خلاف مذمتی قراردارکی منظوری دیدی

اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران سینئرصحافی اعجازاحمد کے ساتھ نارواسلوک اورکراچی میں صحافی امتیازمیرکے قتل کے خلاف مذمتی قراردارکی منظوری دیدی۔ پیرکو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس حوالہ سے ایم کیوپاکستان کے خواجہ اظہارالحسن نے قراردادایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پرانہوں نے قراردادپڑھ کرسنائی۔ قراردادکے متن میں کہاگیاہے کہ یہ ایوان سینئرصحافی اعجازاحمد کے ساتھ اڈیالہ …

اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران سینئرصحافی اعجازاحمد کے ساتھ نارواسلوک اورکراچی میں صحافی امتیازمیرکے قتل کے خلاف مذمتی قراردارکی منظوری دیدی۔ پیرکو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس حوالہ سے ایم کیوپاکستان کے خواجہ اظہارالحسن نے قراردادایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پرانہوں نے قراردادپڑھ کرسنائی۔ قراردادکے متن میں کہاگیاہے کہ یہ ایوان سینئرصحافی اعجازاحمد کے ساتھ اڈیالہ جیل میں صحافیوں کی ملاقات کے دوران غیرشائستہ،غیرمہذب،دھمکی آمیرگفتگواورزبان درازی کی مذمت کرتاہے یہ کہ بانی پی ٹی آئی نے نہ صرف غیرمہذب اوردھمکی آمیززبان کااستعمال کیابلکہ اس کے بعد ان کی ایماء پرسوشل میڈیا پر سینئرصحافیوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہراساں کرنے کی مہم شروع کی گئی اورانہیں جان لیوادھمکیاں بھی دی گئی،یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ اس معاملہ پرفوری ایکشن لیاجائے اوروزارت داخلہ کوہدایت کی جائے کہ نہ صرف اعجاز احمد بلکہ دیگرصحافیوں کوبھی فوری تحفظ فراہم کیاجائے،سوشل میڈیاپراس طرح کی مہم جوئی کافوری طورپرتدارک بھی ہوناچا ہئے اورذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،علاوہ ازیں یہ ایوان کراچی میں صحافی امتیاز میرکی بہیمانہ قتل کی مذمت کرتاہے اورقاتلوں کی فوری گرفتاری کیلئے کارروائی کامطالبہ کرتاہے۔

یہ ایوان حکومت کوہدایت کرتاہے کہ سوشل میڈیا پرمعززصحافی حضرات کوہدف بناکرہراساں کرنے کے رحجان کوروکنے کیلئے فی الفور کارروائی کی جائے اورذمہ داران کوقانون کی سخت گرفت میں لایاجائے۔ایوان نے قراردادکی کثرت رائے سے منظوری دیدی ہے۔قبل ازیں اعجازجکھرانی نے کہاکہ سپیکر کی ہدایت پرہم نے صحافیوں سے تفصیلی بات کی،صحافیوں نے اڈیالہ جیل میں جوکچھ ہوا اس پرتفصیلی آگاہ کیا، ان کو اس بات کی تکلیف تھی کہ وفد میں پی ٹی آئی کاکوئی رکن نہیں تھا،ان کاکہناتھا کہ اس واقعہ کی مذمت کی قراردادآنی چاہئے۔کراچی میں امتیازمیرکوقتل کیاگیا ہے صحافیوں نے اس کی تحقیقات کامطالبہ کیاہے۔وفاقی وزیرسیدامین الحق نے کہاکہ گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل میں ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے صحافی کودھمکی دی گئی اورنازیباالفاظ استعمال کئے، اس کے بعد سوشل میڈیا پرٹرولنگ شروع کی گئی ، ایم کیوایم پاکستان سمجھتی ہے کہ یہ غیراخلاقی اورغیرجمہوری رویہ ہے۔ ایم کیوایم اس معاملہ میں پی آر اے،پریس کلب اوریوجیز سے یکجہتی کااظہارکرتی ہے۔صحافیوں کوسمجھنا ہوگا کہ ایک پرحملہ سب پرحملہ تصورکریں۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں میٹروٹی وی کے رپورٹر کوقتل کیاگیا،ہم اس کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہیں۔