ملک میں صحت کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں موجود بدعنوانی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، وفاقی وزیر صحت
ملک میں صحت کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں موجود بدعنوانی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، وفاقی وزیر صحت

مزید خبریں
کراچی۔21ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں صحت کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں موجود بدعنوانی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت نے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی فائل کو روکنے، گم کرنے یا کسی فرد کی درخواست کو غیر قانونی طور پر آگے بڑھانے کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔ وزارت صحت کی طرف سے جاری بیان کے مطابق کراچی کوہی گوٹھ ویمنز ہسپتال کے نرسنگ کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت کا شعبہ پاکستان کے لیے قومی سلامتی اور قومی معاشی مسئلہ ہے، ہمیں صحت کے شعبے میں اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ صحت کے نظام میں بدعنوانی اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نظام کی خرابی اور بدعنوانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جائز کام کے لیے بھی لوگوں کو رشوت اور سفارش کا سامنا کرنا پڑے تو یہ پورے نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے شعبے میں بھی اصلاحات کا عمل جاری ہے، نرسنگ کونسل کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی کی گئی ہے اور نئے نظام کے تحت نرسنگ کالجز کی منظوری کے عمل کو شفاف بنایا جا رہا ہے۔سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ نرسنگ کالجز کی انسپیکشن اور منظوری کے عمل میں بدعنوانی کی شکایات سامنے آنے کے بعد متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن اداروں نے رشوت یا غیر قانونی طریقے سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نرسنگ کے شعبے میں پاکستان کو بڑی تعداد میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ملک میں نرسز کی کمی کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی پاکستانی تربیت یافتہ نرسز کی طلب موجود ہے۔ اگر نرسنگ کے شعبے میں معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کی جائے تو یہ انسانی وسائل پاکستان کے لیے اہم معاشی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ تقریباً 30 ارب ڈالر ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں۔ اگر ملک اپنے انسانی وسائل کو موثر انداز میں تربیت دے کر عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرے تو صحت کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت کے نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صاف پانی، نکاسی آب اور بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی اور ناقص نکاسی آب کے باعث بچوں سمیت شہریوں کو مختلف خطرات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے پاس وسائل موجود ہیں تاہم ان وسائل کے موثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو انسانی ترقی، معاشی استحکام اور قومی سلامتی کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔سید مصطفیٰ کمال نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (DRAP) میں طبی مصنوعات کی رجسٹریشن کے نظام میں کی جانے والی اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض طبی مصنوعات کی رجسٹریشن میں طویل عرصہ لگتا تھا، تاہم اب آن لائن نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے درخواست گزار کو دفتر کے چکر لگانے یا کسی افسر سے براہ راست رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ نئے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے طبی مصنوعات کی رجسٹریشن کا عمل تیز اور شفاف بنایا گیا ہے اور اب رجسٹریشن کی اوسط مدت تقریباً 21 دن تک آ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کا مقصد نہ صرف موجودہ مسائل کو حل کرنا ہے بلکہ مستقبل میں بھی سفارش، رشوت اور غیر ضروری مداخلت کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز، پروفیسرز اور دیگر طبی ماہرین دراصل انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ حکومت ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو سہولت فراہم کرنے اور نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چودہ ماہ کے دوران صحت کے شعبے میں کام کرتے ہوئے انہیں یہ احساس مزید مضبوط ہوا ہے کہ صحت صرف ایک وزارت یا محکمہ کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی اور قومی معیشت سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے نظام کو جدید، شفاف، ڈیجیٹل اور عوام دوست بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔






