قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا حکومتِ سندھ کے محکمہ آبپاشی اور پاور ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور ڈویژن) نے حکومتِ سندھ کے محکمہ آبپاشی اور پاور ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث سندھ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور ڈویژن) نے حکومتِ سندھ کے محکمہ آبپاشی اور پاور ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث سندھ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور ڈویژن) کا اجلاس ممبر نیشنل اسمبلی محمد ادریس کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

کمیٹی نے سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سی ای اوز اور حکومت سندھ کے سیکریٹری خزانہ، آبپاشی اور پاور ڈیپارٹمنٹس کو ہدایت کی کہ وہ باہمی طور پر بیٹھ کر واجب الادا رقوم کے اعداد و شمار پر مصالحت کریں اور بجلی کمپنیوں کو مسلسل نقصان سے بچانے کے لیے ادائیگیوں کا بندوبست کریں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ محکمہ آبپاشی صرف سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 617 ملین روپے اور سکریپ (scrap) ٹیوب ویلوں، دفاتر اور آبپاشی کالونیوں کو فراہم کردہ بجلی کی مد میں 125 ملین روپے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذمہ واجب الادا ہیں۔

محکمہ آبپاشی اور پاور کے سیکریٹریز نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پر آبپاشی کالونیوں کے بل واجب الادا نہیں ہیں، نیز دونوں بجلی کمپنیوں کو متعدد بار درخواست کی گئی کہ آبپاشی کالونیوں کے رہائشیوں کو میٹرنگ نیٹ ورک میں شامل کیا جائے، تاہم اس حوالے سے ان کی جانب سے تاحال کارروائی کا انتظار ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہیسکو کے دائرہ اختیار میں صرف دو آبپاشی کالونیوں میں انفرادی میٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ حکومتِ سندھ واجب الادا رقوم کے اعداد و شمار کی مفاہمت کو اور بل کی رقم کی ادائیگی کے لیے تیار ہے۔سیکریٹری خزانہ سندھ نے کمیٹی کو بجلی کمپنیوں کو بلوں کی مد میں جاری کی گئی رقوم کے بارے میں آگاہ کیا۔

معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے فیصلہ کیا عدم ادائیگی اور بجلی کی بندش سے مقامی آبادی اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ممبر قومی اسمبلی سید وسیم حسین کی سر براہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ کمیٹی کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں جینکو کے فاضل ملازمین کو شامل کرنے کے لیے وزارت کی جانب سے کیے کہ اقدامات کو سراہا گیا۔کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ ہیزکومیں عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ کمپنی کے سی ای او نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی بورڈ مقامی انسانی وسائل کو تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھرتی کرنے کی منظوری دے چکا ہے، جس سے آئندہ دنوں میں عملے کی کمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

کمیٹی نے اسلام آباد کے سیکٹر ای-11 میں واقع ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے بجلی سے محرومی کے مسائل پر بھی غور کیا، جن کے پاس سی ڈی اے کے مطلوبہ این او سی موجود ہیں، اور آئیسکو کو ہدایت کی کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے مزید تاخیر کے بغیر بجلی کے کنکشن فراہم کرے۔ آئیسکو چیف نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کمپنی پہلی ہی سیکٹر میں مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بجلی فراہم کر چکی ہے اور شہری ایجنسی سے مطلوبہ طریقہ کار اور این او سیز کی تکمیل سے مشروط، بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن)، ممبر قومی اسمبلی سید نوشین افتخار، شریار مہر، راجہ قمر الاسلام، سید وسیم حسین، رانا محمد حیات، سیکرٹری پاور ڈویژن، ڈسکوز کے سی ای اوز اور متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔