22.6 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومقومی خبریںقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت...

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا 16 واں اجلاس، وفاقی تعلیمی اداروں میں صاف پانی، بیت الخلا کی سہولیات، چار دیواری کی تعمیر اور چھتوں کی مرمت کے حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور

- Advertisement -

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا 16 واں اجلاس چیئرمین ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی کی زیرصدارت ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی ) کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی تعلیمی اداروں بالخصوص اسلام آباد کے سرکاری سکولوں اور کالجوں میں صاف پانی، بیت الخلا کی سہولیات، چار دیواری کی تعمیر اور چھتوں کی مرمت کے حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے دیہی علاقوں میں واقع اداروں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے ایک محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس، آرٹس اینڈ ٹیکنالوجی (IISAT) کا تاحال "زیرو وزٹ” نہیں ہوا اور اس کے کمپیوٹر کورسز نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیٹیشن کونسل (این سی ای اے سی ) سے منظور شدہ نہیں ہیں، ادارے کو صرف ایک کمپیوٹر پروگرام کے لئے این او سی جاری ہوا لیکن وہ اس وقت 10پروگرامز چلا رہا ہے۔

کمیٹی نے اس غیرقانونی عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایچ ای سی آرڈیننس میں ترامیم کی سفارش کی تاکہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر جرمانے عائد کئے جا سکیں۔وفاقی اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ایف یو یو اے ایس ٹی ) کے اساتذہ کی شکایات پر بات کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ وائس چانسلر کو خود اجلاس میں شریک ہو کر بریفنگ دینی چاہئے، دیکھنے میں آیا ہے کہ وائس چانسلر اکثر بیرونی دوروں پر ہوتے ہیں اور اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔کمیٹی کو پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو ) کے کام اور جاری منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ان منصوبوں میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں دانش سکولوں کا قیام شامل ہے۔

- Advertisement -

نیشنل بک فاؤنڈیشن (این بی ایف ) کے منظور شدہ اور موجودہ عملے کی تفصیلات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ایک رکن نے نشاندہی کی کہ "رائٹ سائزنگ” کا عمل درحقیقت "رونگ سائزنگ” میں تبدیل ہو چکا ہے کیونکہ واضح نہیں کہ کون سے عہدے ختم نہیں ہونے چاہئیں۔ اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی، انجم عقیل خان، راجہ خرم شہزاد نواز، زیب جعفر، فرح ناز اکبر (پارلیمانی سیکرٹری)، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، مہتاب اکبر راشدی، مسرت رفیق مہیسر، عبدالعلیم خان، سبین غوری، داور خان کنڈی، فیاض حسین، محمد اسلم گھمن ،وجیہہ قمر (وزیر مملکت) کے علاوہ وزارتِ وفاقی تعلیم، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں