اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے لئے ایوان میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے حوالے سے تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے قواعد و ضوابط طے کرلئے گئے جس کے مطابق ہر اجلاس میں 86 سے زائد ارکان شرکت نہیں کر سکیں گے اور جن جن ارکان کے ابھی تک کرونا ٹیسٹ نہیں ہوئے یا ان کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں وہ …
قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے لئے ایوان میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے حوالے سے تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے قواعد و ضوابط طے
اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے لئے ایوان میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے حوالے سے تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے قواعد و ضوابط طے کرلئے گئے جس کے مطابق ہر اجلاس میں 86 سے زائد ارکان شرکت نہیں کر سکیں گے اور جن جن ارکان کے ابھی تک کرونا ٹیسٹ نہیں ہوئے یا ان کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں وہ ہال میں داخل نہیں ہو سکیں گے’ فنانس بل پر ووٹنگ کے علاوہ کسی بھی دن ایوان میں کورم کی نشاندہی نہیں کی جائے گی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت تمام پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے سید نوید قمر نے کہا کہ جن ارکان کا ٹیسٹ نہیں ہوا یا ٹیسٹ ہوا ہے اور مثبت آیا ہے ان کو ہال میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ روزانہ اجلاس تین گھنٹے ہوگا۔ یہ 30 جون تک لاگو رہے گا۔ بجٹ سے پہلے اظہار تشکر کی تحریک ختم کردی جائے۔ وقفہ سوالات ‘ تحاریک التوائ’ توجہ مبذول نوٹسز پورے سیشن میں نہیں لئے جائیں گے۔ ووٹنگ والے دن کے علاوہ باقی کسی دن بھی کورم کی نشاندہی نہیں ہوگی۔ 86 سے زائد ارکان اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ تمام جماعتوں کو روٹیشن کی بنیاد پر ارکان نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ کٹوتی کی تحاریک جمع تو کرائی جائیں گی مگر ان پر ووٹنگ نہیں ہوگی۔ بجٹ 30 جون سے قبل منظور کرلیا جائے گا۔ ارکان کی حاضری گیٹ نمبر 1 پر لگائی جائے گی ان کے لئے ہال میں آنا ضروری نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ لاجز میں کسی مہمان کے داخلے پر پابندی ہوگی۔ فنانس بل کی منظوری کے وقت کورم کا خیال رکھا جائے گا۔ فنانس بل میں اپوزیشن کی طرف سے ترامیم دی جائیں گی۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں بھی مشاورت شروع کی جائے۔ سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں تمام فیصلے ہوئے تھے۔وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور نے تمام اپوزیشن جماعتوں کی ان فیصلوں کے حوالے سے تعریف کی۔









