قومی ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے صاف ہوا کیلئے ورلڈ بنک گروپ کی عالمی مہم میں شمولیت اختیار کرلی

لاہور۔5فروری (اے پی پی):پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر  نے صاف ہوا کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی عالمی مہم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ثنا میر، جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ہال آف فیم کی رکن بھی ہیں، نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے صاف اور نیلے آسمانوں کے لیے مقامی زبانوں میں مکالمے، سماجی آگاہی مہمات، موثر پالیسیوں اور بہتر عملی اقدامات …

لاہور۔5فروری (اے پی پی):پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر  نے صاف ہوا کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی عالمی مہم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ثنا میر، جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ہال آف فیم کی رکن بھی ہیں، نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے صاف اور نیلے آسمانوں کے لیے مقامی زبانوں میں مکالمے، سماجی آگاہی مہمات، موثر پالیسیوں اور بہتر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ورلڈ بینک گروپ کے اشتراک سے نامور کھلاڑیوں کی قیادت میں چلنے والی ایک سماجی مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد صحت مند ماحول کے لیے شعور اور عملی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

اس مہم میں وسیم اکرم، رشبھ پنت، دیپا ملک اور سومپل کامی جیسے معروف کھلاڑی بھی شامل رہے ہیں۔ثنا میر نے کہا کہ صاف ہوا زندگی ہے، بالکل صاف پانی کی طرح۔ موجودہ نسل کے طور پر ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے بہتر زمین اور بہتر فضا چھوڑ کر جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صاف ہوا کوئی آسائش نہیں بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔ورلڈ بینک گروپ انڈو گنگا کے میدانوں اور ہمالیائی دامن کے علاقوں میں فضائی آلودگی کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے، جن میں بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، نیپال اور پاکستان کے حصے شامل ہیں۔

ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق، جس کا عنوان ہے اے بریتھ آف چینج: انڈو گنگا کے میدانوں اور ہمالیائی دامن میں صاف ہوا کے حل، تقریبا ایک ارب لوگ اس خطے میں غیر صحت بخش ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں ہر سال لگ بھگ دس لاکھ افراد قبل از وقت موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فضائی آلودگی سے ہونے والا معاشی نقصان سالانہ خطے کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریبا دس فیصد کے برابر ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر چند اہم اقدامات مختلف شعبوں اور سرحدوں کے پار یکساں طور پر اختیار کیے جائیں تو فضائی آلودگی میں نمایاں کمی، عوامی صحت میں بہتری اور مضبوط معاشی ترقی ممکن ہے۔

اس خطے میں فضائی آلودگی کے پانچ بڑے ذرائع ہیں، جن میں گھروں میں کھانا پکانے اور حرارت کے لیے ٹھوس ایندھن کا استعمال، صنعتوں میں فوسل فیول اور بایوماس کو غیر مثر طریقے سے اور بغیر فلٹر ٹیکنالوجی کے جلانا، پرانی اور غیر مثر گاڑیوں کا استعمال، فصلوں کی باقیات جلانا اور کھاد و جانوروں کے فضلے کا ناقص انتظام، اور گھریلو و تجارتی سطح پر کچرا جلانا شامل ہیں۔رپورٹ میں ایسے حل بھی پیش کیے گئے ہیں جنہیں آسانی سے اپنایا اور بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکتا ہے، جن میں بجلی سے کھانا پکانا، صنعتی بوائلرز، بھٹیوں اور بھٹوں کی جدید کاری، غیر موٹرائزڈ اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ نظام، فصلوں کی باقیات اور مویشیوں کے فضلے کا بہتر انتظام، اور کچرے کی درجہ بندی، ری سائیکلنگ اور مناسب تلفی شامل ہے۔

ان حلوں کو تین باہم مربوط بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا، ایسے اقدامات جو کھانا پکانے، صنعت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور کچرے کے شعبوں میں آلودگی کو اس کے منبع پر کم کریں۔ دوسرا، حفاظتی اقدامات جو صحت اور تعلیم کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ صاف ہوا کی جانب منتقلی کے دوران بچوں اور کمزور طبقات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ تیسرا، مضبوط ادارے اور مثر قوانین، مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار اور علاقائی تعاون، جو مختلف شعبوں اور خطوں میں طویل المدتی اور پائیدار پیش رفت کو ممکن بنانا ہے۔