اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے منگل کو یہاں ”پنجاب کے بھٹوں میں استحصال اور بدسلوکی کے حقائق“کے عنوان سے ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں پنجاب کے بھٹہ مزدوروں کو درپیش سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، استحصال اور بدسلوکی کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔این سی آر سی سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ تحقیق پاکستان پارٹنرشپ انیشی ایٹو (پی پی آئی) کے تعاون سے کی گئی جس میں منظم استحصال، صنفی بنیاد پر تشدد، قرض کی جکڑ اور بھٹہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کی وسیع پیمانے پر عدم فراہمی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ پنجاب کے دو اہم بھٹہ مراکز فیصل آباد اور قصور میں وسیع فیلڈ ریسرچ کی بنیاد پر بنائی گئی ہے ۔رپورٹ میں 200 مزدوروں کے سروے اور 30 متاثرہ افراد کے تفصیلی انٹرویوز کے ذریعے مرتب شدہ کیس سٹڈیز شامل ہیں۔ اس تحقیق میں ٹریڈ یونینز، بھٹہ مالکان اور پنجاب لیبر ڈپارٹمنٹ کے حکام کو بھی شامل کیا گیا تاکہ ایک کثیرالجہتی نقطہ حقائق سامنے آ سکیں۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے کہا کہ یہ رپورٹ کئی ماہ کے فیلڈ ورک، انٹرویوز اور سرویز کا نتیجہ ہے جس میں پنجاب کے بھٹوں میں تشدد، استحصال اور بدسلوکی کے واقعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف ان قوانین کو بے نقاب کرتی ہے جو نظرانداز کیے گئے، بلکہ ان وعدوں کو بھی سامنے لاتی ہے جو پورے نہ ہوئے اور اس عزت نفس کو بھی جسے بار بار پامال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ این سی ایچ آر طویل عرصے سے اس مختلف شعبوں میں غیر انسانی رویوں کی تبدیلی اور نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے۔ہمارے لیے جبری مشقت کا خاتمہ کوئی خیراتی کام نہیں بلکہ یہ انسانی وقار کو بلند کر نے کی کوشش ہے اور یہ ہمارے آئین میں موجود وعدے کی تکمیل بھی ہے۔مہمان خصوصی لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جاوید حسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوآبادیاتی دور کی جبری مشقت سے لے کر آئینی تحفظات تک کا سفر ایک پیش رفت ضرور ہے، لیکن بھٹوں میں ہونے والے مظالم ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ سفر ابھی ادھورا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ صرف عدلیہ ہی نہیں بلکہ مقننہ اور انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان مظالم کے سدباب کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
اس رپورٹ کو اجتماعی عمل کی آواز بننا چاہیے تاکہ ایک ایسے پاکستان کی تشکیل ہو جہاں کوئی مزدور زنجیروں میں جکڑا نہ ہو اور ہر فرد کی عزت قائم رہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے قانون سازی میں اصلاحات، عدالتی و ادارہ جاتی نظام کی مضبوطی اور مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق عبد الخالق شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جبری مشقت ہمارے آئین، ہمارے قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مزدوروں کے قوانین میں ترامیم، بھٹوں میں جبری مشقت کے خاتمے جیسے منصوبوں، پیشگی رقوم کے ضابطے، معاہدوں میں بہتری اور شناختی دستاویزات کی فراہمی جیسے اہم اقدامات کیے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان سب کے علاوہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تحقیقات نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ ہمیں ان خلا کو دکھاتی ہیں جو قانون اور اس کے نفاذ، پالیسی اور عملی اقدامات کے درمیان موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قوانین بنانا صرف پہلا قدم ہے، اصل امتحان ان پر موثر عمل درآمد ہے اور یہی انصاف کا حقیقی پیمانہ ہے۔ اپنے خطاب میں سی ای او پی پی آئی اشرف وادھوا مل نے کہا کہ اس تحقیق نے پاکستان کے بھٹہ مزدوروں کو درپیش انتہائی کٹھن حالات کو بے نقاب کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ خاندان نسل در نسل جبری مشقت، ظلم اور بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار رہے ہیں۔ ہمارا مقصد اس تکلیف دہ سلسلے کو ختم کرنا ہے، ایک ایسے بزنس ماڈل کے ذریعے جو ان خاندانوں کو پائیدار روزگار فراہم کر کے بااختیار بنائے۔اس تحقیق میں انتہائی سنگین مظالم کو دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا ہے جن میں زبانی اور جسمانی بدسلوکی سے لے کر اغواء اور حتیٰ کہ قتل کے واقعات بھی شامل ہیں۔ خواتین مزدور خاص طور پر غیر محفوظ ہیں جو مسلسل جنسی ہراسانی، دبائو اور جبری شادیوں کا شکار بنتی ہیں۔ مزدور غیر محفوظ، غیر صحت مند اور استحصالی حالات میں شدید موسم کے دوران کام کرنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں اکثر کم از کم قانونی اجرت سے بھی کم معاوضہ دیا جاتا ہے اور سماجی تحفظ تک رسائی بھی حاصل نہیں ہوتی۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 97 فیصد مزدور فوری قرضوں کے باعث بھٹوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ 90 فیصد کے پاس کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں جس کے باعث وہ مزدور قوانین کے تحفظ سے محروم رہتے ہیں۔
مزید یہ کہ 70 فیصد سے زائد خاندان ایک ہی تنگ و تاریک کمرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 92 فیصد مزدور زبانی بدسلوکی کا شکار ہیں جبکہ متعدد مزدوروں نے مارپیٹ، اغواء اور یہاں تک کہ تشدد کی شکایات بھی بیان کیں۔تحقیق میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کام کی جگہ کے معیارات پر عمل درآمد انتہائی کمزور ہے، خصوصاً چھوٹے بھٹوں میں۔ اس کے ساتھ ہی صنفی حساس نگرانی کا فقدان، جبری مشقت سے متعلق قوانین میں ہراسانی سے تحفظ کی کمی، منظم بحالی پروگراموں اور سماجی تحفظ کے نظام کی غیر موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔ مزید برآں شکایات کے بکھرے ہوئے طریقۂ کار اور ضلعی ویجیلنس کمیٹیوں کی محدود رسائی مزدوروں کے استحصال کو مزید بڑھا دیتی ہے۔تحقیق میں فوری اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔ ان سفارشات میں زیر التواء مزدور کنونشنز کی توثیق، کم از کم اجرت کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ہراسانی کے خلاف موثر تحفظات، مضبوط نگرانی کے نظام اور سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بازیاب مزدوروں کے لیے منظم بحالی معاونت فراہم کی جائے، خواتین لیبر انسپکٹرز تعینات کی جائیں، بحالی فنڈ قائم کیا جائے اور ای بلیک (EBLIK) جیسے کامیاب اصلاحی ماڈلز کو وسیع پیمانے پر اپنایا جائے۔