24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںقومی کمیشن برائے وقار نسواں کے زیراہتمام گرین پاکستان پروگرام کے تحت...

قومی کمیشن برائے وقار نسواں کے زیراہتمام گرین پاکستان پروگرام کے تحت ’’ایک بیٹی، ایک شجر‘‘ مہم کے سلسلے میں فاطمہ جناح پارک میں شجرکاری مہم کا انعقاد

- Advertisement -

اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے وزیراعظم کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت ’’ایک بیٹی، ایک شجر‘‘ مہم کے سلسلے میں اسلام آباد کے فاطمہ جناح پارک  میں شجرکاری مہم کا انعقاد کیا۔ اس مہم کا مقصد بیٹیوں کو رحمت قرار دیتے ہوئے ماحولیاتی پائیداری اور خواتین کی قیادت میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کو فروغ دینا تھا۔تقریب کی مہمانان خصوصی وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر، پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق اور چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر شامل تھیں۔ انہوں نے اس مہم کے وژن کو اجاگر کیا جس میں بیٹیوں اور درختوں کو پاکستان کے لیے مزاحمت، ترقی اور تسلسل کی علامت قرار دیا گیا۔اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، یونیسف، پی پی اے ایف، سی ڈی اے، این سی ایس ڈبلیو کے عملے اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی اور مقامی اقسام کے پودے لگائے جنہیں خواتین اور بچیوں کی طاقت، وقار اور مستقبل کی علامت کے طور پر منسوب کیا گیا۔

چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر لگایا جانے والا درخت امید، مساوات اور ہماری بیٹیوں کے مستقبل کی علامت ہے۔انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ صنفی مساوات اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے یکجا ہو جائیں۔ وزیر مملکت  وجیہہ قمر نے تعلیم کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ماحولیاتی طور پر ذمہ دار شہری بنانے میں تعلیم کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لڑکیوں کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار مستقبل ممکن نہیں۔صبا صادق نے وزیراعظم کے وژن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم خواتین کے بااختیار ہونے کو قومی ترقی سے منسلک کرتی ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں خواتین کے تاریخی کردار کو یاد دلایا اور کہا کہ جس طرح خواتین ہمیشہ ہماری قومی جدوجہد کے مرکز میں رہی ہیں، آج وہ ایک سرسبز اور زیادہ پائیدار پاکستان کی علمبردار بھی ہیں، یہ اقدام این سی ایس ڈبلیو کے اس مشن کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے خواتین کو بااختیار بناتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ بیٹیاں ملک کے مستقبل کی معمار کے طور پر تسلیم کی جائیں۔ شجرکاری نے اس پیغام کو مزید مستحکم کیا کہ جس طرح درخت دیکھ بھال کے بغیر مضبوط نہیں ہو سکتے، اسی طرح بچیوں کو بھی عزت، سہولت اور مواقع دے کر پروان چڑھایا جانا ضروری ہے۔تقریب کے اختتام پر شرکا نے خواتین کے بااختیار بنانے، کمیونٹی کی شمولیت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا تاکہ بیٹیاں اور فطرت دونوں مل کر ایک سرسبز اور زیادہ شمولیتی پاکستان کے لیے پروان چڑھ سکیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں