جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ قومی یکجہتی وقت کی ضرورت ہے،کشمیریوں کے اجتماع میں جذباتی نوجوانوں کی تقاریر کی بجائے ان کے مطالبات پر غور کیا جانا چاہئے، کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران نے باضابطہ خط لکھ کر ثالثی کےلئے کردار ادا کرنے کا کہا ہے تاہم یہ کام میں اکیلا نہیں کر سکتا۔
قومی یکجہتی وقت کی ضرورت ،کشمیریوں کے اجتماع میں جذباتی جوانوں کی تقاریر کی بجائے ان کے مطالبات پر غور کیا جانا چاہئے، مولانا فضل الرحمٰن

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ قومی یکجہتی وقت کی ضرورت ہے،کشمیریوں کے اجتماع میں جذباتی نوجوانوں کی تقاریر کی بجائے ان کے مطالبات پر غور کیا جانا چاہئے، کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران نے باضابطہ خط لکھ کر ثالثی کےلئے کردار ادا کرنے کا کہا ہے تاہم یہ کام میں اکیلا نہیں کر سکتا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ وقت تحمل اور سنجیدگی اور برداشت کا ہے،بعض اوقات ہم سیاست میں حدود سے آگے چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غلطیوں سے سبق سیکھنا اچھی بات ہے۔
کا کہنا تھا کہ کشمیری احتجاج پر ہیں ،وہاں چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے ،میرے خیال میں اس میں کوئی نکتہ نہیں جس پر بات نہ ہو،اسی اجتماع میں پاکستان کے حق میں بات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مجھے خط لکھا جس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا ہے،یہ میں اکیلا نہیں کر سکتا،میں نے مثبت ردعمل دیا اور اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا جس کے بعد انہوں نے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرناتھا جو نہیں کیا، ان کی طرف سے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۔ایوان میں وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی موجود ہے،احتجاج کرنے والوں کے جواب میں ویڈیو بیان میں اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا،حکومت کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جواب کو احترام دیا،اگر حکومت اور ایکشن کمیٹی کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل ہو ا تو اس کا حل نکل آئے گا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت ان کے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کو مدنظر رکھے ،جذباتی تقاریر کو نہیں،ہمیں حکمت عملی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا ثالثی میں پاکستان کے کردار کے مثبت اثرات کو سمیٹنا چاہیے،کشمیر میں بدامنی ہوئی تو یہ پریشان کن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی یکجہتی کی ضرورت ہے،ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جس سے تقسیم ہو، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں۔








