لاہور میں پیش آنے والے واقعات کے تدارک کے لئے قوانین مرتب کرتے ہوئے تمام فریقین کو شامل کرنا چاہیے’ سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کے لئے قومی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے’ وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کا قومی اسمبلی میں سانحہ لاہور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اظہارخیال

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ لاہور میں پیش آنے والے واقعات کے تدارک کے لئے قوانین مرتب کرتے ہوئے تمام فریقین کو شامل کرنا چاہیے' سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کے لئے قومی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے' پاکستان میں تمام شہریوں کو بلاتفریق و جنس یکساں حقوق حاصل ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں سانحہ …

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ لاہور میں پیش آنے والے واقعات کے تدارک کے لئے قوانین مرتب کرتے ہوئے تمام فریقین کو شامل کرنا چاہیے’ سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کے لئے قومی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے’ پاکستان میں تمام شہریوں کو بلاتفریق و جنس یکساں حقوق حاصل ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں سانحہ لاہور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے زرتاج گل وزیر نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ کل تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہا کہ سانحہ پر سیاست نہیں کی جائے گی اور خواتین ارکان کو موقع دیا جائے گا۔ اس واقعہ سے ہمارا نظام ایکسپوز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس پر بحث ہونی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے اس کو بھی پوائنٹ سکورنگ اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ بجائے اس کے کہ واقعہ کے محرکات اور پہلو پر بات ہوتی یہاں ایوان میں کہا گیا کہ یہ موٹروے فلاں فلاں نے بنائی تھی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ لاہور واقعہ سے یہ بات واضح ہے کہ ہمارا سماجی فیبرک کمزور ہوا ہے۔ طاقتور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ باہر آسکتے ہیں اس لئے وہ بار بار جرائم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اس ایوان میں خواتین ارکان کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے جاتے ہیں، ان کی ٹرولنگ کی جاتی ہے۔ زرتاج گل نے کہا کہ بدقسمتی سے خواتین کے ساتھ بیشتر واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ پنجاب ہائوس میں ایک خاتون کا ریپ اور مرڈر ہوا اس پر ایک ایم این اے نے کہا کہ یہ تو عیاشی کے لئے آئی تھی۔ مظلوم کو شرمندہ کرنے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے اور جو قانونی سقم ہیں ان پر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اسی طرح سب خواتین کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح فاضل ممبران نے شرعی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے بات کی ہے اس ضمن میں ہائوس کی کمیٹی بنائی جائے جس میں اسلامی نظریاتی کونسل’ علماء کرام اور خواتین سمیت تمام سٹیک ہولڈر شامل ہوں۔ اسی طرح لاہور جیسے واقعات میں ملک میں مظلوموں اور نشانہ بننے والے افراد کا نام صیغہ راز میں رکھنا چاہیے اور سیلفیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اس بارے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی رویوں میں تبدیلی کے لئے قومی آگاہی مہم شروع کی جانی چاہیے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پولیس کے بارے میں بھی ترجمان مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔