لاہور۔20اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور ایران اس وقت آپسی تعلقات کو فروغ دینے کی بہترین پوزیشن میں ہیں، دونوں ممالک کو ان حالات کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے، لاہور چیمبر سے ایرانی کونسلیٹ کے اچھے تعلقات ہیں اورامید ہے کہ فہیم الرحمن سہگل کے دورے صدارت میں ہمارے تعلقات میں وسعت آئے گی۔ ا ن خیالات کا اظہار ایران کے کونسل جنرل مہران مواحد فر نے لاہور چیمبر میں ایک …
لاہور چیمبر آف کامرس میں ایرانی قونصل جنرل مہران مواحد فر کی آمد، تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور

مزید خبریں
لاہور۔20اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور ایران اس وقت آپسی تعلقات کو فروغ دینے کی بہترین پوزیشن میں ہیں، دونوں ممالک کو ان حالات کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے، لاہور چیمبر سے ایرانی کونسلیٹ کے اچھے تعلقات ہیں اورامید ہے کہ فہیم الرحمن سہگل کے دورے صدارت میں ہمارے تعلقات میں وسعت آئے گی۔ ا ن خیالات کا اظہار ایران کے کونسل جنرل مہران مواحد فر نے لاہور چیمبر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، اور ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ایرانی کونسل جنرل نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات اس وقت بہترین ہیں، گزشتہ دو سال کے دوران ایران کے دو صدور نے پاکستان کا دورہ کیا اور دو وزرائے خارجہ نے بھی متعدد بار پاکستان کا دورہ کیا۔ ہم نے بارہ روزہ صیہونی حملے میں بھی پاکستانی عوام کاایران کے ساتھ پیار دیکھا۔ پاکستان اور ایران اپنی سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کا مشترکہ عقیدہ رکھتے ہیںاور اسی طرح بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ میں بھی پاکستانی عوام نے دلیری دکھائی، انہوں نے کہا کہ جس ملک کے پاس حضرت علامہ اقبال ہوں وہ کبھی شکست نہیں کھا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ کے موقع پر دونوں ممالک کے مابین بارہ ایم او یوز پر دستخط ہوئے جن میں سے گیارہ ٹریڈ اور کامرس کے حوالے سے تھے۔کونسل جنرل نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران نے پاکستان سے چار سو ٹن چاول، تیس ہزار ٹن گوشت، دو لاکھ ٹن مکئی ، اینیمل فیڈ اور پاکستان کی زرعی پراڈکٹس امپورٹ کی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت کا حجم دس ارب ڈالر تک پہنچ جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ لاہور چیمبر ٹریڈ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
ایرانی کونسل جنرل نے لاہور چیمبر کے صدر کو وفد کے ہمراہ جنوری میں تہران ایکسپو میں شرکت کی دعوت دی جسے صدر لاہور چیمبر نے قبول کیا۔ لاہور چیمبر کے صدرنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف بہترین ہمسائے ہیں بلکہ ان کے درمیان مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتے بھی نہایت گہرے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات ہمیشہ نیک نیتی، اعتماد اور بھائی چارے پر مبنی رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے اور ہم اس حقیقت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور بہترین سفارتی تعلقات قائم ہیں۔
ہم آپ کے تعاون اور رہنمائی سے ان تعلقات کو مستحکم تجارتی اور معاشی روابط میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہترین ورکنگ ریلیشن پر فخر ہے جو ہمیشہ لاہور چیمبر اور ایران کے قونصلیٹ جنرل آفس لاہور کے درمیان قائم رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ ان قریبی تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر ایران کو خطے میں ایک اہم تجارتی شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے مستقل کوشاں ہے۔پاکستانی حکومت نے یکم جون 2023کو ایس آر او 642جاری کیا، جس کے تحت پاکستان اور ایران کے درمیان باڈر ٹریڈ (تبادلہ تجارت) کا آغاز ممکن ہوا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ باڈر ٹریڈ کے طریقہ کار میں ترامیم کی ہیں، جن میں لین دین کی مدت کو بڑھا کر 120دن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اہم ترامیم باڈر ٹریڈ کو مزید عملی اور کاروبار دوست بنائیں گی۔فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ایران کے لیے پاکستان سے چاول، گوشت، ٹیکسٹائل مصنوعات، پھل و سبزیاں، دواسازی کی مصنوعات وغیرہ درآمد کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے جبکہ ایران پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات اور صنعتی خام مال فراہم کر سکتا ہے۔
سنگل کنٹری نمائشیں اور تجارتی وفود کا تبادلہ دونوں ممالک کی منڈیوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور باڈر ٹریڈ کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔لاہور چیمبر باضابطہ تجارت کے حق میں ہے اور ہم ہمیشہ سمگلنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں کیونکہ یہ معیشت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ مل کر دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کریں۔نجی شعبوں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے آپ کا دفتر دونوں ممالک کے بڑے چیمبرز آف کامرس کے درمیان تعلقات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان بینکنگ چینلز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارت دستاویزی انداز میں ہو سکے۔ ہم تجویز دیتے ہیں کہ ایران پاکستان میں اپنا مالیاتی ادارہ قائم کرے اور پاکستان بھی ایران میں ایسا ہی کرے۔








