لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کیخلاف درخواست نمٹا دی

لاہور۔4دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں بھاری جرمانوں سے متعلق ترامیم کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کی بنا پر کیس نمٹا دیا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے، اب اس پر عمل کریں، یہاں قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کرانے آگئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سوسائٹی کو بہتر اور شہریوں کو ذمہ دار …

لاہور۔4دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں بھاری جرمانوں سے متعلق ترامیم کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کی بنا پر کیس نمٹا دیا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے، اب اس پر عمل کریں، یہاں قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کرانے آگئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سوسائٹی کو بہتر اور شہریوں کو ذمہ دار بنانے کے لیے بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم عمر بچے تیز رفتاری سے موٹر سائیکل چلاتے ہیں جبکہ والدین بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ چیف جسٹس نے راولپنڈی کے حالیہ حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں کیا ہوا؟ حادثے میں دو خواتین جان سے گئیں۔ پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ون وے خلاف ورزی خصوصا کم عمر ڈرائیوروں کی روک تھام سے حادثات، زخمیوں اور اموات میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پانچ ہزار کم عمر بچوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جس کے بعد صورتحال میں بہتری آئی۔

پولیس نے موقف اپنایا کہ بھاری جرمانے اس لیے رکھے گئے ہیں تاکہ شہری خلاف ورزیوں سے باز رہیں۔ قبل ازیں درخواست گزاروکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ پولیس کم عمر بچوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہی ہے، وی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے سڑکیں بند ہوتی ہیں اور ٹریفک جام ہوتا ہے شہری پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں، بھاری جرمانے مزید بوجھ ہیں، درخواست گذار وکیل نے کہا کہ ٹریفک قوانین سے آگاہی دینے کے بجائے جرمانے اور مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں درخواست میں ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ بعدازاں عدالت میں درخواست گزار وکیل نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے کیس نمٹا دیا ۔