لیبیا کا سیاسی عمل تعطل کا شکار ،اتحاد، استحکام اور انتخابات کے انعقاد کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان

اقوام متحدہ۔19فروری (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ لیبیا کا سیاسی عمل تاحال تعطل کا شکار ہے اور ملک بھر میں دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے خاتمے ،اتحاد، استحکام اور انتخابات کے انعقاد کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے لیبیا میں اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن (یو این ایس ایم آئی …

اقوام متحدہ۔19فروری (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ لیبیا کا سیاسی عمل تاحال تعطل کا شکار ہے اور ملک بھر میں دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے خاتمے ،اتحاد، استحکام اور انتخابات کے انعقاد کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے لیبیا میں اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن (یو این ایس ایم آئی ایل )کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام لیبیائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں تاکہ سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور تمام شہریوں کو امن کے حقیقی ثمرات فراہم کیے جا سکیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان لیبیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے لیبیائی قیادت میں سیاسی عمل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا کیونکہ یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ انہوں نے سیاسی روڈ میپ پر عملدرآمد کے ابتدائی اقدامات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا،ان میں ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کے بورڈ کی تشکیلِ نو اور انتخابات سے متعلق آئینی و قانونی فریم ورک میں ترامیم شامل ہیں، تاہم انہوں نے طویل مدتی استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی حمایت میں علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کی طرف سے تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو استحکام اور اتحاد کو فروغ دیتے ہیں ۔

سکیورٹی ٹریک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن اور بین الاقوامی شراکت داروں کی معاونت سےلیبیائی فریقوں کے درمیان مسلسل رابطے، نسبتاً امن قائم رکھنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طے شدہ سکیورٹی انتظامات پر مکمل عملدرآمد اور سکیورٹی سیکٹر اصلاحات میں پائیدار پیش رفت کے لیےبات چیت جاری رہنی چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے آئینی عدلیہ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے لیبیائی فریقوں کی ثالثی کی کوششوں بشمول ممتاز لیبیائی قانونی ماہرین پر مشتمل ثالثی کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ معاشی شعبہ پائیدار امن اور طویل مدتی استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، توانائی اور دیگر اہم صنعتوں میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی لیبیا کی معاشی صلاحیت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے قومی بجٹ کی منظوری اور معاشی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے لیبیا کے منجمد اثاثوں کے تحفظ اور انہیں لیبیائی عوام کے مفاد میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جیسا کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قرارداد میں درج ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیبیائی اداروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ شفاف اور موثر مالیاتی نظم و نسق کے لیے ناگزیر ہے۔واضح رہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن (یو این ایس ایم آئی ایل ) کی قیادت میں ثالثی کا عمل آئینی بنیاد اور انتخابی فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد صدارتی و پارلیمانی انتخابات کے لیے قواعد طے کرنا،ایک متحدہ حکومت کی تشکیل اور قومی سطح پر جامع مکالمہ منعقد کرنا ہے تاکہ حکمرانی، معیشت، سلامتی اور مفاہمت جیسے اہم امور حل کیے جا سکیں۔