مالی سال 27- 2026 کے بجٹ کے اہم خدوخال

مالی سال 27-2026 کے لئے اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد رہنے کا امکان ہے۔ افراط زر کی اوسط شرح 8.2 فیصد متوقع ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2 فیصد ہوگا۔

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):مالی سال 27- 2026 کے بجٹ کے اہم خدوخال
٭ مالی سال 27-2026 کے لئے اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد رہنے کا امکان ہے۔ افراط زر کی اوسط شرح 8.2 فیصد متوقع ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2 فیصد ہوگا۔
٭ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 15,264 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8,848 ارب روپے ہو گا۔
٭ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے کچھ قومی تقاضوں کو اجتماعی طور پر پورا کرنے کے لئے ایک انتظام پر اتفاق کیا ہے جس کے مثبت اثرات ملکی سطح پر ہوں گے۔ یہ انتظام تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کے تحت اور صوبائی حکومتوں کے آئینی حقوق کو متاثر کئے بغیر طے پایا ہے۔ اس انتظام کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل میں صوبائی حکومتوں کا حصہ بدستور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے مطابق رہے گا۔

٭ مالی سال 27-2026 کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے محصولات کی متوقع وصولی 15,264 ارب روپے ہے تا ہم سٹرٹیجک قومی تقاضوں کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تقسیم کے لئے کم از کم 13,350 ارب روپے کی رقم محفوظ رکھی گئی ہے۔ 13,350 ارب روپے سے 15,264 ارب روپے تک وصول ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو پاکستان کے آئین 1973 کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے گرانٹس کی صورت میں قومی سٹرٹیجک تقاضوں کی تعمیل کے لئے دستیاب ہوگی۔ یہ انتظام مالی سال 27-2026 کے لئے نافذ العمل ہوگا اور مالی سال 2027-28 اور 29-2028 کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی۔
٭ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5.336 ارب روپے ہو گا۔
٭ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11,751 ارب روپے ہوگی۔

٭ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ہے جس میں سے 8,054 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لئے مختص ہوں گے۔
٭ وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
٭ وفاقی حکومت کے جاریہ اخراجات کا تخمینہ 17,495 ارب روپے ہے۔
٭ ملکی دفاع کے لئے تین ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔
٭ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لئے 1,071 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔
٭پنشن کے اخراجات کے لئے 1,169 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
٭بجلی اور دیگر شعبوں کے لئے سبسڈی کے طور پر 1,091 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔
٭ گرانٹس کی مد میں 2,680 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں ۔

٭ وزیر اعظم اپنا گھر سکیم کے لئے 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
٭ ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کی توسیع کے لئے 88 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
٭ حکومت بی آئی ایس پی کے کوریج فلیگ شپ انیشیٹیو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کفالت پروگرام کو ایک کروڑ 12 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔ تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریبا ً 92 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اگلے مالی سال میں بی آئی ایس پی کے لئے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کے پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے ۔
٭ جاریہ اخراجات سے آزاد جموں و کشمیر کے لئے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لئے 88 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے لئے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

 

مزید خبریں