ماہی گیری شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کی ضرورت ہے، جنید انوار چوہدری

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ماہی گیری کے شعبے میں فوری اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کی قابل اعتماد فراہمی اور پیداواری لاگت میں کمی برآمدات کے فروغ اور پائیدار آمدن کے لیے ناگزیر ہے۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جمعہ کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنید انوار چوہدری نے کہا کہ توانائی …

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ماہی گیری کے شعبے میں فوری اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کی قابل اعتماد فراہمی اور پیداواری لاگت میں کمی برآمدات کے فروغ اور پائیدار آمدن کے لیے ناگزیر ہے۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جمعہ کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنید انوار چوہدری نے کہا کہ توانائی اور دیگر مسائل پیداوار میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور پاکستانی سی فوڈ برآمد کنندگان کی عالمی مسابقت کو متاثر کر رہی ہیں۔

اصلاحات اور مسائل کے حوالے سے وزارت کے اسسٹنٹ فشریز کمشنر فرحان خان نے شعبے کو درپیش پر بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بلا تعطل توانائی، سستی خوراک اور موثر بجلی پیدا کرنے کے انتظامات کے بغیر شعبے کی ترقی ممکن نہیں اور یہی اقدامات ماہی گیری کو ایک مکمل صنعت کے طور پر تسلیم کرانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مچھلی، جھینگا، کیکڑے، لابسٹر، سکوئیڈ، کٹل فش اور بائیوالوز سمیت وافر خام مال موجود ہے جس کی بنیاد پر ویلیو ایڈڈ پراسیسنگ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں مچھلی کی پراسیسنگ کے 100 سے زائد یونٹس، چھوٹے یونٹس سے لے کر بڑے کمرشل پلانٹس تک فعال ہیں جبکہ تقریباً 400 رجسٹرڈ برآمد کنندگان اس شعبے سے وابستہ ہیں تاہم زیادہ تر پلانٹس کراچی میں موجود ہیں، بلوچستان میں انفراسٹرکچر محدود ہے جبکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں شعبہ نمایاں ترقی نئی کر سکا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی سٹیٹ آف ورلڈ فشریز اینڈ ایکواکلچر رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران مچھلی اور مچھلی سے تیار کردہ مصنوعات پاکستان کی سرفہرست برآمدی اشیاء میں دسویں نمبر پر رہیں جو مجموعی برآمدات 32.04 ارب ڈالر میں 1.34 فیصد حصے کے برابر ہیں۔ اس شعبے کی برآمدات نے پھل و سبزیوں، ادویات، سپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات کو پیچھے چھوڑ دیا۔عالمی سطح پر مچھلی اور مچھلی سے تیار کردہ مصنوعات خوراک کی سب سے زیادہ تجارت ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں جو 2022ء میں تقریباً 230 ممالک تک پہنچیں اور ان کی مجموعی مالیت 195 ارب ڈالر رہی۔

فی کس اوسط استعمال 20.7 کلوگرام رہا جس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً ایک فیصد اور زرعی شعبے میں چار فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ اس سے براہ راست ایک ملین سے زائد افراد کو روزگار اور بالواسطہ طور پر تقریباً 15 لاکھ افراد کو ذریعہ معاش حاصل ہوتا ہے۔مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً تین لاکھ ٹن مچھلی اور مچھلی سے تیار کردہ مصنوعات کی پراسیسنگ کی گئی جن میں سے 30 فیصد انسانی خوراک کے لیے برآمد ہوئیں، 40 فیصد پولٹری، ڈیری اور ایکواکلچر کے لیے خوراک بنائی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات 40 سے زائد منڈیوں تک کی جاتی ہیں جن میں چین، خلیجی ریاستیں، جنوب مشرقی و مشرقی ایشیا، امریکا اور یورپی یونین شامل ہیں۔ مقدار کے لحاظ سے یہ زرعی برآمدات میں دوسرے نمبر پر ہے اور سالانہ تقریباً 500 ملین ڈالر زرمبادلہ کماتی ہے تاہم علاقائی مسابقت اور قیمتوں کے دبائو کے باعث آمدن میں اتار چڑھائو رہتا ہے۔