متبادل قانونی فورم دستیاب ہو تو وفاقی آئینی عدالت سے براہ راست رجوع نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی قانونی یا آئینی شکایت کے ازالے کے لیے پہلے سے موثر قانونی فورم دستیاب ہو تو محض بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا دعویٰ کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کے اصل دائرہ اختیار میں متوازی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی قانونی یا آئینی شکایت کے ازالے کے لیے پہلے سے موثر قانونی فورم دستیاب ہو تو محض بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا دعویٰ کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کے اصل دائرہ اختیار میں متوازی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی۔جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے یہ حکم ہارون احمد کی جانب سے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے خلاف دائر سول متفرق اپیل نمبر 34/2026 پر جاری کیا۔ عدالت نے رجسٹرار کی جانب سے آئینی درخواست واپس کیے جانے کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے اپنے طبی ادارے کے خلاف کی گئی کارروائی کو پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج کر رکھا ہے۔ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اس درخواست کی سماعت مقرر نہ ہونے سے یہ قانونی چارہ جوئی غیر موثر یا ناقابل رسائی نہیں ہوجاتی۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اگر صحت کی سہولیات کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث معاملہ فوری نوعیت کا بھی ہو تو محض عجلت کی بنیاد پر متوازی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی، جب تک درخواست گزار کے پاس زیر التواء مقدمے میں عبوری یا حتمی ریلیف حاصل کرنے کا قانونی راستہ موجود ہو۔ عدالت نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2010 کے تحت دستیاب قانونی چارہ جوئی کا بھی حوالہ دیا۔

عدالت نے بتایا کہ ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت کمیشن کے احکامات یا فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے اور درخواست گزار نے اس قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے خلاف ضلع و سیشن جج لاہور کی عدالت میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔عدالت کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے طبی ادارے کی سروسز بحال کرنے کے لیے عبوری ریلیف کی درخواست 22 جولائی 2026ء کو مسترد کی گئی تاہم اصل اپیل تاحال زیر سماعت ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پہلے سے رجوع کیے گئے فورمز سے مطلوبہ ریلیف حاصل نہ ہونا بذات خود آئین کے آرٹیکل 175E(3) کے دائرہ کار میں آنے کے لیے کافی نہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے ’’رضیہ اسلم بنام رجسٹرار، وفاقی آئینی عدالت‘‘ کیس پر درخواست گزار کے انحصار کو بھی مختلف قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس مقدمے میں رجسٹرار کے اختیارات اور بنیادی حقوق کے نفاذ یا عوامی اہمیت کے سوال سے متعلق امور زیر بحث آئے تھے، تاہم اس فیصلے میں یہ قرار نہیں دیا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 175E(3) کے تحت ہر آئینی درخواست قابل سماعت ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹرار کسی متنازع بنیادی حقوق کے سوال یا عوامی اہمیت کے سوال کا حتمی فیصلہ نہیں کر سکتا، تاہم یہ الگ معاملہ ہے کہ جب کوئی متبادل قانونی چارہ جوئی دستیاب ہو تو درخواست گزار وفاقی آئینی عدالت کے اصل دائرہ اختیار سے رجوع کر سکتا ہے یا نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ بنیادی حق کا حوالہ دینا کسی فریق کو دستیاب قانونی چارہ جوئی کو نظر انداز کرکے وفاقی آئینی عدالت سے براہ راست رجوع کرنے کا حق نہیں دیتا۔وفاقی آئینی عدالت نے سول متفرق اپیل خارج کرتے ہوئے رجسٹرار کے اعتراضات برقرار رکھے اور درخواست گزار کو پہلے سے متعلقہ عدالتوں میں جاری کارروائی آگے بڑھانے یا قانون کے تحت دستیاب کسی دوسرے قانونی راستے سے استفادہ کرنے کی اجازت دی۔عدالت نے واضح کیا کہ اس حکم سے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی متنازع کارروائی کی قانونی حیثیت پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی زیر التواء مقدمات کے فیصلے پر اس کا کوئی اثر ہوگا۔