محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی،
محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی،

مزید خبریں
راولپنڈی۔25جون (اے پی پی):صوبائی وزیر پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ ملکی استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے امن و امان کی فضا کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی، صفائی اور شہری سہولتوں کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے جبکہ جلوسوں اور مجالس کی فول پروف سکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر آفس راولپنڈی میں محرم الحرام کے انتظامات اور یوم عاشور کے مرکزی جلوس کے روٹس کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کے ہمراہ مرکزی جلوس کے روٹ کا تفصیلی دورہ بھی کیا۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن انجینئر عامر خٹک، آر پی او بابر سرفراز الپا، سی پی او خالد ہمدانی، ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ، ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن زینیا ہمایوں سمیت میونسپل کارپوریشن، آئیسکو، واسا، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، آر ڈبلیو ایم سی اور دیگر اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے مطابق جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر خصوصی صفائی مہم جاری رکھی جائے گی جبکہ عزاداروں کے لیے ٹھنڈے پانی کی سبیلوں، فسیلیٹیشن سنٹرز اور عارضی واش رومز کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سٹریٹ لائٹس، نکاسی آب اور دیگر بنیادی شہری سہولتوں کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یکم سے 8 محرم الحرام تک ضلع راولپنڈی میں 155 جلوس اور 1332 مجالس پرامن طور پر منعقد ہو چکی ہیں۔ 10 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ سے برآمد ہو کر امام بارگاہ قدیمی پر اختتام پذیر ہو گا جبکہ اس میں امام بارگاہ حفاظت علی شاہ، شہیدان کربلا، شاہ چن چراغ اور یادگار حسین کے جلوس بھی شامل ہوں گے۔
11 محرم الحرام کا جلوس نصیر آباد سے برآمد ہو کر چوہڑ چوک سے ہوتا ہوا امام بارگاہ سخی شاہ پیارا پر اختتام پذیر ہو گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جلوسوں اور مجالس کے لیے ٹرپل لئیر سکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا ہے جس میں پولیس، رینجرز اور پاک فوج کے جوان فرائض سرانجام دیں گے۔ جلوسوں اور حساس مقامات کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی جبکہ اینٹی ڈرون سسٹم بھی نصب کیا جائے گا۔ بعض حساس مقامات اور جلوس روٹس پر موبائل جیمنگ کے خصوصی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا کہ تمام انتظامی افسران اور وہ خود جلوسوں کے اختتام تک فیلڈ میں موجود رہیں گے تاکہ انتظامات کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نگرانی اور رابطہ کاری کو مؤثر بنانے کے لیے دو جدید ویڈیو مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کیے جا رہے ہیں جن میں ایک پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور دوسرا میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے دفتر میں قائم ہو گا۔ ان مراکز کے ذریعے جلوسوں، مجالس اور حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر خٹک نے ہدایت کی کہ ٹریفک پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور شہریوں کو متبادل راستوں سے بروقت آگاہ رکھا جائے تاکہ انہیں کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو اپنے ہنگامی اور ریسکیو پلان مکمل طور پر فعال رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریسکیو اور محکمہ صحت کی جانب سے 57 ایمبولینسز تعینات کی جائیں گی جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ نجی ہسپتالوں میں 537 بیڈز بھی مختص کر دیئے گئے ہیں۔ جلوسوں اور مجالس کے مقامات پر طبی امدادی کیمپ اور فسیلیٹیشن سنٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں سوشل میڈیا مانیٹرنگ، امن کمیٹیوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطوں، مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ العمل ہو گی جبکہ فورتھ شیڈول میں شامل 14 افراد کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی تاکہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔








