محصولات کے اہداف کاحصول تاریخی کامیابی ہے، جدید ٹیکس نظام کا محور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایف بی آر میں خطاب
محصولات کے اہداف کاحصول تاریخی کامیابی ہے، جدید ٹیکس نظام کا محور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایف بی آر میں خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ سالانہ محصولات کے ہدف کو کامیابی سے حاصل کرنے پر ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیاہے، یہ سنگ میل ٹیم ورک، مسلسل اصلاحات اور ایف بی آر کی قیادت اور ملک بھر میں تعینات افسران و عملے کی غیرمتزلزل محنت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، بورڈ کے ارکان، سینئر افسران، چیف کمشنرز اور چیف کلیکٹرز ملک بھر سے بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے وزیر خزانہ نے وزیراعظم کی جانب سے ایف بی آر کی پوری ٹیم کو مالی سال کے دوران انتھک محنت اور بھرپور لگن پر مبارکباد پیش کی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کامیابی کو پاکستان کے گزشتہ ڈھائی برس کے وسیع تر اصلاحاتی سفر کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، اس دوران ملک کی محصولات میں تقریبا دوگنا اضافہ ہوا ، یہ پیش رفت پاکستان کی مالیاتی تاریخ کی نمایاں ترین کامیابیوں میں سے ہے اور اس نے ملکی معیشت کی بنیادی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محصولات میں نمایاں اضافے اور محتاط مالی نظم و ضبط کی بدولت نہ صرف بیرونی شعبے کے اشاریے بہتر ہوئے بلکہ پاکستان نے اپنی تاریخ کا کم ترین مالیاتی خسارہ اور سب سے بڑا پرائمری سرپلس بھی حاصل کیا۔وزیرخزانہ نے بالخصوص ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے شعبوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے نمایاں ٹیرف ریلیف فراہم کرنے کے باوجود محصولات میں خاطر خواہ اضافہ حاصل کیا۔
انہوں نے اس امر کو بھی قابل تحسین قرار دیا کہ ادارے نے مالی سال کے دوران 599 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے جن میں مالی سال کے آخری روز ریکارڈ 13.5 ارب روپے کی ادائیگی بھی شامل ہے ، یہ حکومت کے کاروباری برادری اور برآمدکنندگان کے لیے سہولت کاری کے عزم کا واضح اظہار ہے۔ وزیر خزانہ نے وفاقی بجٹ 2025-26 کی تیاری کے دوران وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے درمیان موثر رابطے اور ہم آہنگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس انتظامیہ کے درمیان بہترین اشتراک عمل نے پاکستان کی تاریخ کے ترقی پسندانہ بجٹوں میں سے ایک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جو ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جدید ٹیکس نظام کی کامیابی صرف محصولات جمع کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا محور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی، خودکار نظام، بہتر خدمات اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے امکانات میں کمی کے ذریعے ٹیکس کی ادائیگی کو زیادہ آسان اور موثر بنایا جائے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت کی جانب سے منظور کردہ ایف بی آر کا نیا آپریٹنگ ماڈل ادارے کی تنظیمی تبدیلی کو مزید تیز کرے گا۔ اس ماڈل کے تحت انسانی وسائل، طریق کار اور ٹیکنالوجی میں جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جن میں مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل نظاموں کا وسیع استعمال بھی شامل ہوگا۔
وزیر خزانہ نے ان اصلاحات کے لیے ضروری قانون سازی میں تعاون پر پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایف بی آر کو ملک کے بہترین عوامی اداروں میں شامل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے ٹیکس اصلاحات کے ایجنڈے کی کامیاب پیش رفت میں وزیراعظم کی ذاتی رہنمائی، مسلسل نگرانی اور قائدانہ کردار کو بھی سراہا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے نئے مالی سال کے پہلے ہی روز ایف بی آر ہیڈکوارٹرز آمد اور ادارے کی مسلسل سرپرستی پر وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بجٹ سازی کے پورے عمل کے دوران وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے درمیان قریبی تعاون خصوصا آئی ایم ایف ، صوبائی حکومتوں، اتحادی جماعتوں، پارلیمانی کمیٹیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے مراحل میں تعاون کو سراہا۔
چیئرمین ایف بی آر نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فنی مہارت اور باہمی تعاون نے حکومت کو پیچیدہ مالیاتی اور ٹیکس پالیسی کے چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے میں مدد دی۔ ان کے مطابق اصلاحاتی عمل نے ثابت کیا ہے کہ جب پاکستان کی سول سروس قومی مقاصد کے لیے متحد ہو کر کام کرے تو غیرمعمولی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ راشد محمود لنگڑیال نے ایف بی آر میں جاری خصوصاً میرٹ، پیشہ ورانہ معیار اور دیانت داری کے فروغ کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اہم فیلڈ عہدوں پر اعلیٰ کردار اور غیرمعمولی دیانت رکھنے والے افسران کی تعیناتی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے بھی موثر محصولات جمع کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے اجلاس کو ایف بی آر میں جاری جدیدکاری کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا جن میں جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب، کسٹمز کے نظام کی بہتری، مصنوعی ذہانت پر مبنی حل اور افسران کی استعداد بڑھانے کے لیے وسیع تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف بی آر حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر مکمل طور پر عمل درآمد جاری رکھے گا اور انہیں یقین ہے کہ ان اقدامات سے ٹیکس دہندگان کو مزید بہتر سہولیات میسر آئیں گی، ٹیکس قوانین پر عمل درآمد مضبوط ہوگا اور پاکستان کا ٹیکس نظام جدید خطوط پر استوار ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر خزانہ نے ایک بار پھر ایف بی آر کی پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد دی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون، موثر اصلاحات اور مضبوط ادارہ جاتی عزم کے ذریعے ایف بی آر آئندہ بھی پاکستان کی معاشی استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے شرکا سے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور پوری ایف بی آر ٹیم کی خدمات کے اعتراف میں کھڑے ہو کر بھرپور تالیاں بجانے کی درخواست بھی کی۔








