محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس بدھ کو رکن قومی اسمبلی محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں شوگر سیکٹر کی جانچ کرنے والی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ ذیلی کمیٹی نے کمیٹی کو نتائج پر بریفنگ دی جس میں چینی کے سٹاک کی رپورٹنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا گیا،کمیٹی نے مارکیٹ کے …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس بدھ کو رکن قومی اسمبلی محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں شوگر سیکٹر کی جانچ کرنے والی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ ذیلی کمیٹی نے کمیٹی کو نتائج پر بریفنگ دی جس میں چینی کے سٹاک کی رپورٹنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا گیا،کمیٹی نے مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے اور صارفین کے تحفظ کے لئے ساختی اصلاحات، مضبوط گورننس، شفافیت اور جوابدہی کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ رپورٹ اپنی تمام سفارشات کے ساتھ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو بھجوائی جائے اور مزید ہدایت کی کہ وزارت ایک ماہ کے اندر ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پر اپنا جواب پیش کرے۔کمیٹی نے فنانس ڈویژن اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) سے پبلک سیکٹر پروکیورمنٹ سے متعلق بقایا وصولیوں اور زیر التواء وصولیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی، معروضی فیصلہ سازی اور سختی سے نفاذ مستقبل کے بحرانوں کو روکنے کے لئے اہم ہیں۔ اجلاس کے دوران سرمایہ کاری بورڈ نے کمیٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول سے متعلق بھی بریفنگ دی جس میں چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع دونوں کو اجاگر کیا۔کمیٹی نے تجارتی نظم و نسق، بین الوزارتی رابطہ کاری اور تجارتی ڈیٹا رپورٹنگ میں تضادات کا بھی جائزہ لیا۔

وزارت نے اراکین کو اعداد و شمار کی غلطیاں دور کرنے، رپورٹنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور برآمدی سہولت کو بڑھانے کے لئے اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات سے آگاہ کیا۔ چیمبرز آف کامرس سے متعلق اصلاحات، برآمدی معاونت کے طریقہ کار اور بین الصوبائی رابطہ کاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ کاروباری کارروائیوں کو مضبوط کیا جا سکے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ کمیٹی نے پالیسی کے پائیدار استحکام، شفاف طرز حکمرانی، کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔

اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کی حمایت کے لئے ضروری ہیں۔اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ،ارکان قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، کرن حیدر، شائستہ پرویز، اسد عالم نیازی، فرحان چشتی اور رمیش کمار نے شرکت کی ، اس موقع پروزارت تجارت، سٹیٹ بینک آف پاکستان، فنانس ڈویژن، ایف بی آر کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔