"محکمہ زراعت نے دھان کے پتوں کے جراثیمی جھلساؤ کے کنٹرول اور فصل کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے کاشتکاروں کو ضروری سفارشات جاری کر دی ہیں۔”
محکمہ زراعت کی دھان کے پتوں کے جراثیمی جھلسائو کے کنٹرول کیلئے سفارشات جاری
لاہور۔16اگست (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کے پتوں کے جراثیمی جھلسائو کے کنٹرول کیلئے سفارشات جاری کردیں۔ترجمان کے مطابق دھان کے پتوں کا جراثیمی جھلسائو ایک خطرناک بیماری اورصوبہ کے بعض علاقوں میں دھان کی اگیتی فصل پراس بیماری کا حملہ مشاہدہ میں آیا ہے، اس بیماری میں پتوں پر بیماری کی علامات سفید/پیلی نمدار دھاری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں اور یہ پتے کی نوک اور کناروں سے شروع ہو کر لمبائی و چوڑائی میں بڑھتی ہے۔
ترجمان کے مطابق جب بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے تو پتے سے دودھیا مادے خارج ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اوربیماری سے بری طرح متاثرہ پتے تیزی سے خشک ہو کر گل سڑ جاتے اور آخرکار مر جاتے ہیں،دور سے فصل جھلسی ہوئی نظر آتی ہے،یہ بیماری دھان کی فصل میں ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے، یہ بیکٹیریا جڑی بوٹیوں اور دھان کے مڈھوں پر رہتے ہیں، بیماری سے متاثرہ بیج بھی بیماری پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ درمیانہ درجہ حرارت زیادہ نمی کے ساتھ بارش اور دھان کے کھیتوں میں گہرا پانی اس بیماری کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں،زخمی پودوں پر بیماری کے حملے کا احتمال بڑھ جاتا ہے، تیز ہوا سے بھی بیماری کھیت میں پھیلتی ہے۔ ترجمان کے مطابق بہت زیادہ نائٹروجنی کھاد کا استعمال بیماری کو بڑھاتا ہے،اس بیماری سے بچائو کیلئے پتا لپیٹ سنڈی، دیگر سنڈیوں اور ٹڈوں کے حملے کو روکا جائے، کھالوں اور وٹوں کو صاف رکھا اور ان میں جڑی بوٹیاں نہ اگنے دی جائیں کیونکہ جڑی بوٹیوں کے کم ہونے سے پتوں کو زخمی کرنے والے ٹڈوں کی تعداد بھی کم ہو گی۔اسی طرح کھیت میں پانی کی سطح کو3 انچ سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے اور کھیت کے متاثرہ حصے سے صحت مند فصل کی طرف بھی پانی کے بہائو کو روکاجائے،بیماری سے متاثرہ چھوٹی ٹکڑیوں اور ان کے ہمراہ آدھے میٹر کے گھیرے میں موجود صحت مندپودوں کو کاٹ کر کھیت سے دوردفن کر دیا جائے۔ علاوہ ازیں محکمہ زراعت پنجاب(توسیع یا پیسٹ وارننگ) کے مقامی عملہ کے مشورہ سے وقفہ قبل از برداشت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زرعی زہروں کا سپرے کریں۔









