مذہبی قیادت کا پاکستان کے استحکام کے لیے حمایت کا اعادہ،’’معرکۂ حق‘‘ کی پہلی سالگرہ پر قومی اتحاد کو خراج تحسین

قومی پیغامِ امن کمیٹی (این پی اے سی) کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نےکہا ہے کہ’’معرکۂ حق، بنیان المرصوص‘‘کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے بدستور متحد ہے۔

اسلام آباد، جمعہ، 24 اپریل (اے پی پی):قومی پیغامِ امن کمیٹی (این پی اے سی) کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نےکہا ہے کہ’’معرکۂ حق، بنیان المرصوص‘‘کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے بدستور متحد ہے۔ جمعہ کو قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین اور مختلف مکاتبِ فکر کے جید علما و مشائخ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ ریاست اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ’’معرکۂ حق‘‘ میں حاصل ہونے والی کامیابی دراصل اللہ تعالیٰ کی نصرت کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نسبتاً کمزور ہونے کے باوجود پاکستان نے ایک بڑے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ دشمن نے عبادت گاہوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کا جواب نہایت محتاط اور درست تھا جس میں غیر جنگجو افراد اور مذہبی مقامات کو نقصان سے بچایا گیا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر دہشتگرد ریاست ثابت کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم وہ ناکام رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم کے تحت علما کرام نے قومی یکجہتی کے فروغ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پر نظام المدارس پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ ڈاکٹر میر آصف نے کہا کہ یہ مرحلہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے جس نے ملک کو عالمی سطح پر ایک مضبوط، متحد اور دفاعی اعتبار سے مؤثر ریاست کے طور پر اجاگر کیا۔

انہوں نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معرکے میں کامیابی کے لیے قوم کا اپنی افواج کے ساتھ متحد ہونا ناگزیر ہے۔دریں اثنا، مولانا زاہد منصور نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا ءکرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں اور پاکستان نے مؤثر جواب دے کر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔اسی طرح مولانا ذوالفقار نے کہا کہ 10 مئی 2025 ایک تاریخی دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب افواجِ پاکستان نے جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اور اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم متحد ہے اور ملک کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، اس یقین کے ساتھ کہ پاکستان استحکام، قوت اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔