اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اور علاقائی ترقی کیلئے جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام ناگزیر ہے۔ جمعرات کو یہاں ’جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام‘ کے موضوع پر سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا متنوع اور زیادہ آبادی والا خطہ ہے جسے متعدد مشترکہ چیلنجز کا …
مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اور علاقائی ترقی کیلئے جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام ناگزیر ہے، افتخار علی ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اور علاقائی ترقی کیلئے جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام ناگزیر ہے۔ جمعرات کو یہاں ’جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام‘ کے موضوع پر سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا متنوع اور زیادہ آبادی والا خطہ ہے جسے متعدد مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے جن سے قریبی اقتصادی تعاون کے ذریعے نمٹا جا سکتا ہے، اپنی معیشتوں کو باہم مربوط کرکے یہ ممالک بیرونی خطراف سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں، تجارتی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے ذرائع میں تنوع سے معاشی بدحالی کے خاتمہ میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قریبی اقتصادی تعلقات سے تجارتی حجم، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی میں اضافہ ہو گا جس سے پورے خطے میں اقتصادی ترقی اور نمو کو فروغ ملے گا اور معاشرے کے مختلف شعبوں اور طبقات کو فائدہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک خطے سے باہر کے چند تجارتی شراکت داروں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، باہمی اقتصادی انضمام، بین العلاقائی تجارت کا فروغ، بیرونی منڈیوں پر انحصار میں کمی اور اشیا و خدمات کے لئے زیادہ مضبوط علاقائی مارکیٹ کا قیام تجارت کو متنوع بنانے میں مدد گار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے کو انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، توانائی اور مواصلاتی نیٹ ورکس میں بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اقتصادی انضمام سے سرحد پار انفراسٹرکچر میں بہتری، روابط میں اضافے اور علاقائی تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے وسائل مہیا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا بڑی اور نوجوان آبادی کا مرکز ہے، اپنی معیشتوں کو مربوط کرکے یہ خطہ بڑی اور زیادہ ہنر مند لیبر مارکیٹ تشکیل دے سکتا ہے جس سے سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ باہمی اقتصادی تعاون کا انحصار ممالک کے مابین کشیدگی اور تنازعات میں کمی سے ہے، اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنا کر ہی باہمی مفادات، اعتماد اور تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو خطے میں امن و استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔








