وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کا پی ایس کیو سی اے کے بعض ملازمین کی جانب سے مراعاتی شیئر کی بحالی کے مطالبے پر وضاحتی بیان جاری

وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے بعض ملازمین کی جانب سے مراعاتی شیئر (انسینٹو شیئر) کی بحالی کے مطالبے پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مروجہ مالیاتی، قانونی اور آڈٹ فریم ورک کے تحت اس اسکیم کا موجودہ صورت میں جاری رہنا ممکن نہیں۔

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے بعض ملازمین کی جانب سے مراعاتی شیئر (انسینٹو شیئر) کی بحالی کے مطالبے پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مروجہ مالیاتی، قانونی اور آڈٹ فریم ورک کے تحت اس اسکیم کا موجودہ صورت میں جاری رہنا ممکن نہیں۔

وزارت کی جانب سے جاری وضاحتی بیان کے مطابق ماضی میں پی ایس کیو سی اے کی مجموعی آمدنی کا 10 فیصد بطور مراعاتی شیئر ملازمین میں تقسیم کیا جاتا تھا، تاہم اس ادائیگی کے لیے کوئی باضابطہ طور پر منظور شدہ مالیاتی قواعد یا ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں تھا۔ مزید برآں یہ رقم تمام ملازمین میں یکساں طور پر تقسیم کی جاتی تھی، جس کا انفرادی کارکردگی، کلیدی کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) یا کسی معروضی کارکردگی جانچ سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس لیے یہ حقیقی معنوں میں کارکردگی پر مبنی مراعاتی نظام نہیں تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنے قانونی آڈٹ کے دوران اس طریقہ کار پر سنگین اعتراضات اٹھائے اور آڈٹ پیرا میں نشاندہی کی کہ ایسی ادائیگیوں کے لیے کوئی منظور شدہ قانونی اور مالیاتی بنیاد موجود نہیں تھی۔ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے مزید کہا کہ شفاف، قانونی اور کارکردگی پر مبنی مراعاتی نظام متعارف کرانے کے لیے پی ایس کیو سی اے کے ساتھ مشاورت سے نئے مالیاتی قواعد کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جسے منظوری کے لیے وزارتِ خزانہ کو بھجوا دیا گیا ہے اور معاملہ اس وقت زیرِ غور ہے۔

بیان کے مطابق پی ایس کیو سی اے اس امر کے لیے پرعزم ہے کہ مستقبل میں کسی بھی مراعاتی اسکیم کا نفاذ صرف مجاز حکام کی منظوری، قابلِ اطلاق مالیاتی قواعد اور شفافیت، جوابدہی اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق کیا جائے گا۔ وزارت نے واضح کیا کہ جب تک مطلوبہ قانونی اور ریگولیٹری منظوری حاصل نہیں ہو جاتی، ایسی اسکیم کو جاری رکھنا جس کے لیے باقاعدہ قانونی بنیاد موجود نہ ہو، قابلِ جواز نہیں۔

 

مزید خبریں