مشرق وسطیٰ سےتوانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رہنے سے ساڑھے چار کروڑ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں ، آئی ایم ایف
مشرق وسطیٰ سےتوانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رہنے سے ساڑھے چار کروڑ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں ، آئی ایم ایف

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے عالمی معیشت کو کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں اور عوام پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے معاشی مشکلات کا باعث بن رہی ہے،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ دنیا اس وقت ایک بڑے، عالمی اور غیر متوازن سپلائی شاک کا سامنا کر رہی ہے، عالمی سطح پر یومیہ تیل کی فراہمی تقریباً 13 فیصد اور ایل این جی کی فراہمی 20 فیصد تک کم ہو گئی ہے، دنیا کا ہر ملک توانائی کی بلند قیمتیں ادا کر رہا ہے،اس کے اثرات مختلف ممالک پر ان کی جغرافیائی قربت، توانائی کی برآمد یا درآمد کی حیثیت، اور مالیاتی گنجائش کے مطابق مختلف شدت سے مرتب ہو رہے ہیں،جنگ کے آغاز سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی جو ایک مرحلہ پر بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔
اگرچہ بعد میں قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے لیکن وہ اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں اور کئی ممالک توانائی کی فراہمی حاصل کرنے کے لیے اضافی قیمت ادا کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں نے متعدد ثانوی اثرات پیدا کیے ہیں، جو آنے والے عرصے میں بھی جاری رہ سکتے ہیں تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں کی سرگرمیاں کم ہوگئی،ڈیزل اور جیٹ فیول سمیت ریفائن شدہ مصنوعات کی قلت نے عالمی سطح پر ٹرانسپورٹ، تجارت اور سیاحت کو متاثر کیا ہے۔اس صورتحال میں خوراک کی عدم دستیابی میں اضافہ ہواہے اورصورتحال جاری رہنے پر مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ بھوک کا شکار افراد کی تعداد 36 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق عالمی اقتصادی نمو پر اس بحران کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ جنگ بندی کتنی دیرپا ثابت ہوتی ہے اور انفراسٹرکچر کو کتنا نقصان پہنچتا ہے، اگر یہ بحران نہ ہوتا تو عالمی اقتصادی نمو میں اضافے کی توقع کی جا رہی تھی، مگر اب حتیٰ کہ بہترین صورت میں بھی نمو کی رفتار کم ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں آئی ایم ایف نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات جیسے برآمدات پر پابندی یا قیمتوں پر سخت کنٹرول سے گریز کریں، کیونکہ اس سے عالمی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے مرکزی بینکوں کو قیمتوں کے استحکام پر توجہ دینے،حکومتوں کو معاشی طورپرکمزور طبقات کے لیے ہدفی اور عارضی مالی امداد کی فراہمی اور مالیاتی وسائل کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث آئندہ عرصے میں ممالک کو ادائیگیوں کے توازن کے لیے مالی مدد کی ضرورت بڑھ سکتی ہے ۔ جنگ بندی برقراررہنے کی صورت میں آئی ایم ایف 20 ارب سے 50 ارب ڈالر تک مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ میں توانائی کی بچت، متبادل توانائی کے ذرائع، اور اقتصادی اصلاحات پر توجہ جاری رکھنے کی ضرورت پرزوردیاگیاہے۔








