تہران۔20مارچ (اے پی پی):ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل کی جنگ میں متعدد محاذوں پر جمعہ کو 21ویں دن شدت آگئی ہے اور فریقین نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور توانائی کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے بتایا …
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور توانائی کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ، جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ
مزید خبریں
تہران۔20مارچ (اے پی پی):ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل کی جنگ میں متعدد محاذوں پر جمعہ کو 21ویں دن شدت آگئی ہے اور فریقین نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور توانائی کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے مختصر عرصے میں اسرائیل کی طرف متعدد میزائل فائر کئے ہیں اور اس حملے کو اس کے "سچا وعدہ 4” آپریشن کے 66ویں مرحلہ قرار دیا ہے۔ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر سی جی ) نے کہا کہ اس نے بھاری، کثیر وار ہیڈ سسٹم، بشمول قدر، خرم شہر اور خیبر شکن میزائل، ڈرونز کے ساتھ تعینات کیے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے گلیل، حیفہ خلیج، بیت المقدس اور جنوبی علاقوں میں سائرن بجانے کی تصدیق کی۔ ہوم فرنٹ کمانڈ نےبیت المقدس میں دو مقامات پر ملبہ گرنے کی اطلاع دی۔ اس کے ساتھ اسرائیل نے بھی تہران پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے تہران میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ دارالحکومت میں اور اس کے اطراف میں دھماکوں کی اطلاع ملی، فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ا یف ) نے جمعہ کو حملوں کی ایک تازہ لہر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپریشنز مرکزی تہران میں اسٹریٹجک انفراسٹرکچر پر مرکوز تھے۔ یہ حملے فارسی نئے سال نوروز کے موقع پر ہوئے اور شہر بھر میں نئے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل سسٹم کی تیاری جاری رکھنے کی اجازت دینا علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جنگ توقع سے جلد ختم ہو سکتی ہے۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میں بھی اس جنگ کو لوگوں کی سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم ہوتے دیکھ رہا ہوں۔دوسری طرف ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات خاص طور سے سپریم لیڈر کا قتل بین الاقوامی تنازع میں خطرناک تبدیلی کا اشارہ ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی کھلی جارحیت پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے فیصلہ کن جواب دینے میں ناکامی کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری اس بحران کے خلاف مضبوطی سے نہیں کھڑی ہوئی تو اس جنگ کے شعلوں کی آگ بہت سے لوگوں کے لباس کو جلا دے گی۔








