اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر پالیسی پر تیزی سے کام جاری ہے اور تکمیل کے مراحل میں ہے، بہت جلد اس پالیسی کو کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کر دیا جائے گا۔ موسمیاتی تغیرات اور عالمی حدت میں اضافے کے باعث زرعی شعبہ میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ پاکستان …
مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کی عالمی ادارہ برائے خوراک و زرات کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر پالیسی پر تیزی سے کام جاری ہے اور تکمیل کے مراحل میں ہے، بہت جلد اس پالیسی کو کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کر دیا جائے گا۔ موسمیاتی تغیرات اور عالمی حدت میں اضافے کے باعث زرعی شعبہ میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ پاکستان کو ایسی زراعت کی ضرورت ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کر سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی ادارہ برائے خوراک و زرات کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گزشتہ روز عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے وفد نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کا دورہ کیا اور وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ایف۔ اے۔ او کی پاکستان میں سفیر مینا دولت شاہی کر رہی تھیں۔ وفد نے بتایا کی عالمی ادارہ ِخوراک وزراعت 47.69 ڈالر کی لاگت سے پاکستان میں کلائمیٹ مزاحمتی زراعت پر مشتمل پروگرام چلائے گا۔ یہ پروگرام پنجاب اور سندھ کے آٹھ اضلاع میں چھے سال میں مکمل ہوگا۔








